LIVE
Loading Breaking News...

امریکی فوج میں برطرفیاں، پیٹ ہیگسیتھ کے اقدامات اور طویل المدتی نتائج

News Image
امریکہ کے فوجی ڈھانچے میں اعلیٰ ترین سطح پر ہونے والی تبدیلیوں اور برطرفیوں کا سلسلہ جاری ہے۔ آرمی سیکرٹری کا استعفیٰ اس بحران کی تازہ ترین کڑی ہے جس سے امریکی دفاعی نظام کے مستقبل پر سوالات اٹھ رہے ہیں۔
واشنگٹن میں دفاعی حلقوں کے مطابق امریکی فوج کے اندر اعلیٰ ترین سطح پر تبدیلیوں اور برطرفیوں کا ایک نیا سلسلہ شروع ہو چکا ہے جس نے ملکی اور بین الاقوامی سطح پر مبصرین کی توجہ مبذول کروا لی ہے۔ اس تبدیلی کے عمل کے دوران امریکی آرمی سیکرٹری کا استعفیٰ اس بات کا ثبوت ہے کہ فوج کے اعلیٰ ترین عہدوں پر شدید دباؤ پایا جاتا ہے۔ ان واقعات کو امریکی دفاعی پالیسیوں میں ممکنہ بڑی تبدیلیوں کے طور پر دیکھا جا رہا ہے، جس کے طویل المدتی اثرات براہ راست ملک کی عسکری صلاحیتوں پر مرتب ہو سکتے ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اس طرح کی پالیسیوں اور فیصلوں سے فوجی اداروں کے اندر اندرونی بے یقینی پیدا ہوتی ہے۔ جب س니어 کمانڈرز اور اہم عہدیداروں کو اچانک تبدیل کیا جاتا ہے یا وہ استعفیٰ دینے پر مجبور ہوتے ہیں، تو اس سے نہ صرف روایتی کمانڈ کا سلسلہ متاثر ہوتا ہے بلکہ طویل مدتی دفاعی منصوبے بھی تعطل کا شکار ہو جاتے ہیں۔ اس صورتحال کے نتیجے میں فوج کے پیشہ ورانہ امور میں بھی سیاسی مداخلت کے خدشات بڑھ جاتے ہیں، جو کہ کسی بھی سپر پاور کے دفاعی ڈھانچے کے لیے خطرناک ثابت ہو سکتا ہے۔ دوسری جانب، سیاسی اور حکومتی سطح پر یہ مؤقف اختیار کیا جا رہا ہے کہ یہ اقدامات فوج کو مزید مؤثر اور جدید خطوط پر استوار کرنے کے لیے ناگزیر ہیں۔ حامیوں کا ماننا ہے کہ نئی قیادت روایتی رکاوٹوں کو دور کر کے نظام میں اصلاحات لانے کی صلاحیت رکھتی ہے۔ تاہم، ناقدین اس بات پر زور دے رہے ہیں کہ تجربہ کار اور طویل عرصے سے خدمات انجام دینے والے عسکری رہنماؤں کا اس طرح اچانک رخصت ہونا امریکی سلامتی کے لیے ایک بڑا چیلنج بن سکتا ہے، بالخصوص ایسے وقت میں جب عالمی سطح پر جغرافیائی سیاسی کشیدگی عروج پر ہے۔