LIVE
Loading Breaking News...

امریکی عدالت کا فیصلہ: گوگل کا اشتہاری کاروبار برقرار

News Image
امریکی جج نے محکمہ انصاف کی اس درخواست کو مسترد کر دیا ہے جس میں گوگل کے آن لائن ایڈورٹائزنگ ایکسچینج کو الگ کرنے کا مطالبہ کیا گیا تھا۔ اس فیصلے سے گوگل کو اپنے اشتہاری کاروبار کو برقرار رکھنے میں بڑی قانونی کامیابی ملی ہے۔
امریکی عدالت نے ایک اہم فیصلے میں محکمہ انصاف کی جانب سے دائر کی جانے والی اس درخواست کو مسترد کر دیا ہے جس میں ٹیکنالوجی کے بڑے نام گوگل کا آن لائن اشتہاری کاروبار توڑنے کا مطالبہ کیا گیا تھا۔ امریکی محکمہ انصاف کا موقف تھا کہ گوگل کو اس بات پر بالکل بھی اعتبار نہیں کیا جا سکتا کہ وہ غیر جانبدارانہ طریقے سے اپنے آن لائن ایڈورٹائزنگ ایکسچینج کو چلائے، اس لیے مسابقت کو فروغ دینے کے لیے اس کے کاروبار کو تقسیم کرنا انتہائی ضروری ہے۔ تاہم، عدالت نے فریقین کے دلائل سننے کے بعد اس سخت حکومتی مطالبے کو فی الحال نامنظور کر دیا ہے۔ اس قانونی جنگ کا پس منظر گوگل پر مارکیٹ میں اجارہ داری قائم کرنے اور مسابقت کے قوانین کی مبینہ خلاف ورزیوں کے الزامات سے جڑا ہوا ہے۔ محکمہ انصاف اور مختلف ریاستوں کے نگران اداروں کا الزام رہا ہے کہ گوگل ڈیجیٹل اشتہارات کی خرید و فروخت کے تمام اہم مراحل پر مکمل کنٹرول رکھتا ہے، جس کی وجہ سے دیگر حریف کمپنیوں کے لیے منڈی میں ٹکنا مشکل ہو جاتا ہے۔ اسی اجارہ داری کو ختم کرنے کے لیے گوگل کے اشتہاری پلیٹ فارمز کو الگ کرنے یا بیچنے کا دباؤ ڈالا جا رہا تھا تاکہ مارکیٹ میں شفافیت کو یقینی بنایا جا سکے۔ دوسری جانب، گوگل کے وکلاء نے عدالت میں مؤقف اختیار کیا تھا کہ اس قسم کی جبری تقسیم نہ صرف کمپنی کے لیے نقصان دہ ہوگی بلکہ اس سے صارفین اور کاروباری حضرات کو بھی شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑے گا جو اس ڈیجیٹل اشتہاری نظام پر انحصار کرتے ہیں۔ قانونی ماہرین کے مطابق عدالت کا یہ فیصلہ ٹیکنالوجی کی دنیا میں ایک بڑا موڑ ہے، کیونکہ اس سے دنیا بھر کی بڑی ٹیک کمپنیوں کے خلاف جاری ریگولیٹری کارروائیوں اور ان کی ممکنہ تقسیم کے مستقبل پر گہرے اثرات مرتب ہوں گے۔ فیصلے کے بعد یہ توقع کی جا رہی ہے کہ امریکی محکمہ انصاف اس معاملے پر مزید قانونی لائحہ عمل تیار کرے گا، کیونکہ ٹیکنالوجی کی بڑی کمپنیوں کے خلاف اجارہ داری کے مقدمات امریکہ اور دیگر ممالک میں اب بھی پوری شدت کے ساتھ جاری ہیں۔ گوگل کے ترجمان نے عدالتی فیصلے کا خیرمقدم کرتے ہوئے اسے مارکیٹ کی حقیقت اور آزادانہ کاروباری اصولوں کی جیت قرار دیا ہے، جبکہ دوسری طرف نگران ادارے اس کے خلاف اپنی کوششیں جاری رکھنے کا عندیہ دے رہے ہیں۔