LIVE
Loading Breaking News...

حینا جاوید قتل کیس کی سماعت، مرکزی ملزمان جوڈیشل ریمانڈ پر جیل منتقل

News Image
راولپنڈی کی ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن عدالت نے ڈیجیٹل میڈیا ایگزیکٹو حینا جاوید کے قتل کے الزام میں گرفتار مرکزی ملزمان کو جوڈیشل ریمانڈ پر جیل بھیج دیا ہے۔ تفتیشی ذرائع کے مطابق گھریلو ملازم نے مقتولہ کو گلا گھونٹ کر قتل کرنے کا اعتراف کر لیا ہے۔
راولپنڈی کی ایک ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن عدالت نے معروف ڈیجیٹل میڈیا ایگزیکٹو حینا جاوید کے قتل کے بہیمانہ مقدمے میں اہم پیشرفت کے بعد مرکزی ملزمان کو جوڈیشل ریمانڈ پر جیل بھیج دیا ہے۔ اس دلخراش واقعے نے پورے علاقے میں غم و غصے کی لہر دوڑا دی ہے جبکہ پولیس کی جانب سے معاملے کے تمام پہلوؤں کا باریک بینی سے جائزہ لیا جا رہا ہے۔ عدالت میں پیشی کے دوران تفتیشی حکام نے ملزمان سے متعلق مزید شواہد عدالت کے سامنے رکھے جن پر سماعت کے بعد یہ احکامات جاری کیے گئے۔ ابتدائی تحقیقات اور ذرائع کے مطابق حینا جاوید کے قتل میں مبینہ طور پر ملوث گھریلو ملازم نے تفتیش کے دوران یہ اعتراف کر لیا ہے کہ اس نے ڈیجیٹل میڈیا ایگزیکٹو کو گلا گھونٹ کر ہلاک کیا۔ پولیس ذرائع کا کہنا ہے کہ ملزم نے دورانِ تفتیش جرم کی سنگین واردات کی تفصیلات سے بھی پردہ اٹھایا ہے جس سے تفتیشی ٹیم کو کیس کو منطقی انجام تک پہنچانے میں بڑی مدد ملی ہے۔ یاد رہے کہ مقتولہ حینا جاوید کی لاش ان کے گھر کے باتھ روم سے برآمد ہوئی تھی جہاں ان کا جسم شاور کے ساتھ بندھا ہوا تھا، جس نے اس اندوہناک قتل کو مزید پیچیدہ بنا دیا تھا۔ پولیس اور متعلقہ قانون نافذ کرنے والے ادارے اس معاملے میں مزید شواہد اکٹھے کرنے کے لیے فرانزک ماہرین کی مدد بھی لے رہے ہیں۔ عدالت کی جانب سے جوڈیشل ریمانڈ ملنے کے بعد ملزمان کو سخت سکیورٹی حصار میں جیل منتقل کر دیا گیا ہے جبکہ پولیس کا کہنا ہے کہ چالان کی تیاری کے بعد مقدمے کو ٹرائل کے لیے جلد آگے بڑھایا جائے گا۔ مقتولہ کے لواحقین اور سول سوسائٹی کے ارکان نے واقعے پر شدید صدمے کا اظہار کرتے ہوئے انصاف کے فوری تقاضے پورے کرنے اور مجرموں کو کڑی سے کڑی سزا دینے کا پرزور مطالبہ کیا ہے۔