Pakistan
امریکہ ایران کشیدگی: پاکستان کی امن کوششیں جاری رکھنے کی یقین دہانی
دفتر خارجہ کے ترجمان نے ہفتہ وار بریفنگ کے دوران تصدیق کی ہے کہ پاکستان خطے میں امن کے قیام کے لیے اپنی سفارتی کوششیں جاری رکھے گا۔ اسلام آباد اور تہران کے مابین تعلقات اور حالیہ امریکہ ایران کشیدگی کے تناظر میں یہ پیشرفت انتہائی اہم ہے۔
اسلام آباد: دفتر خارجہ کے ترجمان نے وزارت خارجہ میں اپنی ہفتہ وار پریس بریفنگ کے دوران واضح کیا ہے کہ پاکستان امریکہ اور ایران کے درمیان حالیہ کشیدگی اور تناؤ کے باوجود خطے میں امن و استحکام کے لیے اپنی بھرپور کوششیں جاری رکھے گا۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ موجودہ علاقائی صورتحال میں جنگ یا محاذ آرائی کسی کے بھی مفاد میں نہیں ہے، اس لیے سفارت کاری اور بات چیت کا راستہ اپنانا ہی واحد حل ہے۔ اسلام آباد کی طرف سے اس عزم کا اعادہ ایسے وقت میں کیا گیا ہے جب عالمی سطح پر دونوں ممالک کے درمیان کشیدگی میں اضافہ دیکھا جا رہا ہے۔
ترجمان نے مزید بتایا کہ اسلام آباد کی جانب سے پیش کردہ یادداشتِ مفاہمت (ایم او یو) امریکہ اور ایران کے مابین مذاکرات اور بات چیت کا ایک بہترین اور قابلِ عمل فریم ورک فراہم کرتی ہے۔ اس فریم ورک کے ذریعے دونوں فریقین کے درمیان پائے جانے والے خلیج کو کم کرنے اور غلط فہمیوں کو دور کرنے میں مدد مل سکتی ہے۔ پاکستان خطے کا ایک ذمہ دار ملک ہونے کے ناطے ہمیشہ سے امن کا حامی رہا ہے اور وہ فریقین کے درمیان پل کا کردار ادا کرنے کے لیے تیار ہے۔
اس کے علاوہ، آرمی چیف یا چیف آف ڈیفنس فورسز (سی ڈی ایف) جنرل عاصم منیر کا تہران کا دورہ بھی اسی سلسلے کی ایک اہم کڑی ہے، جس کا مقصد دوطرفہ تعلقات کو مستحکم کرنا اور خطے میں امن کے لیے سفارتی کوششوں کو فروغ دینا ہے۔ اس دورے کو تہران اور اسلام آباد کے درمیان سکیورٹی اور سیاسی سطح پر بڑھتے ہوئے تعاون کی علامت کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔ تجزیہ کاروں کے مطابق پاکستان کی یہ فعال سفارتی پالیسی خطے کو ایک بڑے بحران سے بچانے میں اہم ثابت ہو سکتی ہے۔
پاکستان کی اس امن کوشش کو بین الاقوامی سطح پر بھی سراہا جا رہا ہے کیونکہ خطے کا امن براہِ راست عالمی معیشت اور سکیورٹی سے جڑا ہوا ہے۔ دفتر خارجہ کا یہ بیان اس عزم کا عکاس ہے کہ پاکستان خطے میں کشیدگی کم کرنے اور پائیدار امن کے قیام کے لیے تمام دستیاب سفارتی ذرائع بروئے کار لانے کے لیے پرعزم ہے۔