Pakistan
کراچی میں روایتی لکڑی کی کشتی سازی کی صنعت اور ملاحوں کا ورثہ
کراچی کے ساحلی علاقے ابراہیم حیدری میں لکڑی کی روایتی کشتیاں بنانے والے کاریگر صدیوں پرانے ورثے کو زندہ رکھے ہوئے ہیں۔ شدید گرمی اور مشکلات کے باوجود ہنر مندوں کی محنت سے سمندر میں مچھلی کے شکار کا روایتی نظام رواں دواں ہے۔
کراچی کے ساحلی اور ماہی گیروں کے معروف علاقے ابراہیم حیدری میں آج بھی ہتھکنڈوں کی آوازیں اور آریوں کی گھن گرج گونجتی رہتی ہے۔ یہاں کے کارخانوں میں لکڑی کے بڑے بڑے اور مضبوط ڈھانچے تیار کیے جاتے ہیں جو دیکھنے والوں کو داد دینے پر مجبور کر دیتے ہیں۔ یہ مناظر اس بات کا ثبوت ہیں کہ پاکستان کا صدیوں پرانا بحری اور ماہی گیری کا ورثہ جدید دور میں بھی اپنی پوری آب و تاب کے ساتھ برقرار ہے۔ آسمان کے نیچے پھیلے ان کارخانوں میں کاریگر دن رات محنت کرتے ہیں اور لکڑی کو تراش کر سمندر کے سینے پر تیرنے کے قابل بناتے ہیں۔
اس روایتی صنعت سے وابستہ کاریگر انتہائی مہارت اور روایتی طریقوں کا استعمال کرتے ہوئے کشتیاں تیار کرتے ہیں۔ لکڑی کے انتخاب سے لے کر اس کی تراش خراش اور میخیں لگانے تک کا تمام عمل انتہائی محنت طلب ہوتا ہے۔ یہ کاریگر نسل در نسل اس فن کو منتقل کرتے آئے ہیں اور آج بھی ان کی اگلی نسلیں اسی پیشے سے وابستہ ہیں۔ یہاں بننے والی یہ لکڑی کی روایتی کشتیاں نہ صرف مقامی ماہی گیروں کی بنیادی ضرورت ہیں بلکہ یہ اس خطے کی ثقافتی پہچان کا بھی ایک اہم حصہ ہیں جو صدیوں سے سمندر کے ساتھ جڑے ہوئے ہیں۔
موجودہ دور میں اگرچہ فائبر گلاس اور دیگر جدید مواد سے بنی کشتیاں بھی مارکیٹ میں آ چکی ہیں، تاہم لکڑی کی ان روایتی کشتیوں کی اہمیت آج بھی کم نہیں ہوئی۔ مقامی ماہی گیروں کا ماننا ہے کہ لکڑی کی یہ کشتیاں سمندر کی طغیانی اور سخت موجوں کا مقابلہ کرنے میں زیادہ پائیدار اور محفوظ ثابت ہوتی ہیں۔ حکومت اور متعلقہ اداروں کو چاہیے کہ اس صنعت سے وابستہ کاریگروں کی مالی معاونت کریں اور ان کے ہنر کو نکھارنے کے لیے اقدامات کریں تاکہ پاکستان کا یہ قیمتی تاریخی ورثہ آنے والی نسلوں کے لیے بھی محفوظ رہ سکے۔