World
ترکیہ، سعودی عرب اور پاکستان کا دفاعی معاہدہ اور برسلز کا ردعمل
پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ کے مابین طے پانے والے دفاعی معاہدے کو برسلز کی جانب سے مثبت قرار دیا گیا ہے۔ اس معاہدے کا مقصد خطے میں امن کا فروغ اور باہمی تعاون کو مضبوط بنانا ہے۔
برسلز کی جانب سے ترکیہ، سعودی عرب اور پاکستان کے مابین طے پانے والے نئے 'مکّہ' دفاعی معاہدے کا خیرمقدم کیا گیا ہے، جبکہ چینی جاسوسی کے حوالے سے پائے جانے والے خدشات کو فی الحال پس پشت ڈال دیا گیا ہے۔ اس اہم دفاعی اتحاد کے تحت تینوں ممالک کے درمیان عسکری اور تزویراتی تعاون کو نئی بلندیوں تک لے جانے کا عزم ظاہر کیا گیا ہے، جس سے خطے میں اجتماعی سلامتی اور مسلم دنیا کے اتحاد کو تقویت ملے گی۔ حالیہ دنوں میں اعلیٰ عسکری اور سیاسی قیادت کی سطح پر متعدد ملاقاتیں ہوئی ہیں جن میں اس معاہدے کے خدوخال کو حتمی شکل دی گئی۔ فیلڈ مارشل عیم منیر اور دیگر اعلیٰ حکام کے استنبول میں ہونے والے مذاکرات نے اس شراکت داری کو عملی جامہ پہنانے میں کلیدی کردار ادا کیا ہے۔ اس نئے فریم ورک کے تحت پاکستان کو اس دفاعی معاہدے کے سیکریٹریٹ کی میزبانی بھی سونپی گئی ہے، جو اسلام آباد کی خطے میں بڑھتی ہوئی سفارتی اور عسکری اہمیت کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ ماہرین کے مطابق اس اقدام سے نہ صرف تینوں برادر اسلامی ممالک کے دیرینہ تعلقات میں مزید گہرائی آئے گی بلکہ دفاعی نوعیت کے چیلنجز سے نمٹنے کے لیے ایک مشترکہ لائحہ عمل بھی تیار ہوگا۔ دوسری جانب، مغربی دارالحکومتوں خصوصاً برسلز میں اس معاہدے کو خطے میں توازن قائم کرنے کے ایک نئے موقع کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔ اگرچہ کچھ حلقوں کی جانب سے اس عمل میں چینی اثر و رسوخ اور جاسوسی کے حوالے سے تحفظات کا اظہار کیا گیا تھا، تاہم یورپی یونین کے بیشتر رہنماؤں نے اس خطے میں استحکام اور باہمی تعاون کے فروغ کو زیادہ اہمیت دی ہے۔ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ یہ دفاعی معاہدہ آنے والے وقتوں میں بین الاقوامی سیاست اور مشرق وسطیٰ اور جنوبی ایشیا کے تزویراتی منظر نامے پر گہرے نقوش چھوڑے گا۔