Business
پاکستان میں مہنگائی کی شرح گیارہ فیصد سے تجاوز، معاشی صورتحال
پاکستان میں اگست کے دوران مہنگائی کی شرح میں غیر متوقع اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے جو کہ بڑھ کر گیارہ فیصد سے تجاوز کر گئی ہے۔ ایندھن اور اشیائے خورونوش کی قیمتوں میں اضافے کے باعث مرکزی بینک کی جانب سے احتیاطی پالیسی برقرار رکھنے کا امکان ہے۔
پاکستان میں معاشی دباؤ میں ایک بار پھر اضافہ دیکھنے میں آیا ہے جہاں اگست کے دوران مہنگائی کی شرح تمام اندازوں اور پیشگوئیوں سے بڑھ گئی ہے۔ مالیاتی اداروں اور وزارتِ خزانہ کے تخمینوں کے برعکس مہنگائی کی شرح گیارہ فیصد سے تجاوز کر گئی ہے جس نے عام آدمی کی مشکلات میں مزید اضافہ کر دیا ہے۔ اس صورتحال نے ملک کے مرکزی بینک کو بھی دباؤ میں مبتلا کر دیا ہے جو اس مالیاتی رجحان پر گہری نظر رکھے ہوئے ہے۔ ماہرین کے مطابق اس بنیادی اضافے کی بڑی وجوہات میں ایندھن، گندم اور روزمرہ استعمال کی دیگر اشیائے خورونوش کی قیمتوں میں ہونے والا ہوشربا اضافہ شامل ہے۔ لاہور سمیت ملک کے مختلف شہروں میں مہنگائی نے گھریلو بجٹ کو بری طرح نچوڑ کر رکھ دیا ہے جہاں شہری مہنگی بجلی، کرایوں اور کھانے پینے کی بنیادی اشیاء کی خریداری میں شدید مشکلات کا شکار ہیں۔ وزارتِ خزانہ نے اگست کے لیے مہنگائی کا تخمینہ دس سے گیارہ فیصد کے درمیان لگایا تھا لیکن زمینی حقائق اس سے بھی زیادہ سخت ثابت ہوئے۔ ان حالات میں اسٹیٹ بینک آف پاکستان کی جانب سے مانیٹری پالیسی کے حوالے سے محتاط رویہ اختیار کیے جانے کی توقع ہے۔ معاشی ماہرین کا کہنا ہے کہ جب تک عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں اور رسد کے مسائل میں بہتری نہیں آتی، عام صارفین کو ریلیف ملنا مشکل دکھائی دیتا ہے۔ حکومت اور متعلقہ اداروں کے لیے اس بڑھتی ہوئی مہنگائی پر قابو پانا ایک بڑا چیلنج بن چکا ہے تاکہ معیشت کو مزید بحران سے بچایا جا سکے اور عوام کے قوتِ خرید کو سہارا دیا جا سکے۔