LIVE
Loading Breaking News...

صدر شی جن پنگ کا دورہ مصر اور پاک چین خطے کی بدلتی حرکیات

News Image
چینی صدر شی جن پنگ نے ڈونلڈ ٹرمپ سے اہم سمٹ سے قبل مصر کا دورہ کیا ہے جہاں دونوں ممالک کے درمیان مختلف شعبوں میں تعاون کے معاہدے طے پائے ہیں۔ اس دورے کا مقصد دونوں دوست ممالک کے مابین سفارتی اور تجارتی تعلقات کو مزید فروغ دینا ہے۔
بیجنگ: چینی صدر شی جن پنگ نے ڈونلڈ ٹرمپ کے ساتھ متوقع سربراہی اجلاس سے قبل ایک غیر معمولی غیر ملکی دورے کے سلسلے کے دوران مصر کا اہم دورہ کیا ہے۔ اس دورے کو بین الاقوامی سطح پر انتہائی اہمیت کی نگاہ سے دیکھا جا رہا ہے کیونکہ خطے میں امریکی پابندیوں کے خطرات بھی منڈلا رہے ہیں۔ اس اہم دورے کے دوران چین اور مصر کے صدور نے دونوں ممالک کے مابین دوطرفہ تعاون کو مزید وسعت دینے کے لیے متعدد معاہدوں اور مفاہمت کی یادداشتوں پر دستخط کیے ہیں۔ تجزیہ کاروں کے مطابق یہ قدم خطے میں اقتصادی اور سیاسی استحکام کے لیے انتہائی اہمیت کا حامل ہے۔ اس موقع پر دونوں رہنماؤں نے دو طرفہ تعلقات کے ستر سالہ جوبلی کا بھی جشن منایا اور تاریخی تعلقات کو نئے دور میں داخل کرنے کے عزم کا اعادہ کیا۔ دورے کے دوران چین کی جانب سے مصر کی نیل کے پانی کی سلامتی کے لیے غیر متزلزل حمایت کا بھی اعلان کیا گیا جس سے دونوں برادر ممالک کے مابین اعتماد کا رشتہ مزید مضبوط ہوا ہے۔ اس کے علاوہ ایران کے ساتھ قریبی تعلقات کی وجہ سے درپیش امریکی پابندیوں کے تناظر میں چین اور مصر کے درمیان یہ ملاقات خطے کی بدلتی ہوئی جغرافیائی سیاسی صورتحال میں ایک اہم موڑ قرار دی جا رہی ہے۔ بین الاقوامی مبصرین کا ماننا ہے کہ یہ دورہ مشرق وسطیٰ میں چین کے بڑھتے ہوئے اثر و رسوخ اور معاشی مفادات کا عکاس ہے۔ دونوں ممالک کے سربراہان نے اس عزم کا اظہار کیا ہے کہ وہ عالمی چیلنجز سے نمٹنے کے لیے مل کر کام کریں گے اور مختلف شعبوں بالخصوص تجارت، انفراسٹرکچر اور توانائی میں باہمی اشتراک کو مزید بلندیوں تک لے جائیں گے۔