LIVE
Loading Breaking News...

امریکہ ایران کشیدگی: ڈاؤ جونز میں گراوٹ اور تیل کی قیمتوں میں تیزی

News Image
امریکہ کی جانب سے ایران پر نئے فوجی حملوں کے نتیجے میں عالمی مالیاتی منڈیوں میں ہلچل مچ گئی ہے اور ڈاؤ جونز انڈیکس میں چار سو سے زائد پوائنٹس کی کمی ریکارڈ کی گئی ہے۔ دوسری جانب مشرق وسطیٰ میں کشیدگی بڑھنے کے خدشات کے پیش نظر خام تیل کی قیمتوں میں فی بیرل چار ڈالر سے زائد کا بڑا اضافہ دیکھا گیا ہے۔
امریکہ کی جانب سے ایران کے خلاف کیے جانے والے نئے اور حالیہ فوجی حملوں کے نتیجے میں عالمی مالیاتی منڈیوں پر گہرے اثرات مرتب ہوئے ہیں۔ وال اسٹریٹ پر کاروباری ہفتے کے دوران شدید مندی کا رجحان دیکھا گیا جہاں ڈاؤ جونز انڈیکس چار سو سے زائد پوائنٹس کی نمایاں گراوٹ کے ساتھ بند ہوا۔ سرمایہ کاروں کی جانب سے خطے میں مزید کشیدگی اور جنگ کے پھیلنے کے خدشات کے پیش نظر حصص کی فروخت میں تیزی لائی گئی، جس سے مارکیٹ کا اعتماد متزلزل ہوا۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اس طرح کی جغرافیائی سیاسی کشیدگیاں عالمی معیشت کے لیے فوری طور پر منفی اشارے ثابت ہوتی ہیں۔ اس عسکری کشیدگی کا سب سے بڑا اثر عالمی توانائی کی منڈی پر پڑا ہے جہاں خام تیل کی قیمتوں میں فی بیرل چار ڈالر سے زائد کا تیز ترین اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔ خبر رساں اداروں کے مطابق برینٹ کروڈ آئل کی قیمتیں واپس پچانوے ڈالر فی بیرل کے قریب پہنچ گئی ہیں، کیونکہ امریکی کارروائیوں اور ایرانی جوابی خدشات کی وجہ سے آبنائے ہرمز اور اہم تیل بردار گزرگاہوں سے سپلائی متاثر ہونے کا خطرہ پیدا ہو گیا ہے۔ امریکی فورسز کی جانب سے ایرانی ٹینکرز کو نشانہ بنائے جانے کی خبروں نے مارکیٹ میں خوف و ہراس کی فضا کو مزید ہوا دی ہے، جس سے تاجروں میں بے یقینی بڑھ گئی ہے۔ توانائی کے ماہرین کا یہ بھی کہنا ہے کہ اگر امریکہ اور ایران کے درمیان جاری یہ محاذ آرائی طول پکڑتی ہے تو آنے والے دنوں میں پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں مزید بلند ہو سکتی ہیں، جس سے دنیا بھر میں مہنگائی کی ایک نئی لہر جنم لے سکتی ہے۔ مرکزی بینک اور اقتصادی ادارے موجودہ صورتحال پر گہری نظر رکھے ہوئے ہیں تاکہ اس بات کا اندازہ لگایا جا سکے کہ سپلائی چین میں پیدا ہونے والے اس خلل سے عالمی اقتصادی بحالی کو کتنا نقصان پہنچ سکتا ہے۔ کاروباری حلقے اس وقت انتہائی محتاط حکمت عملی اختیار کیے ہوئے ہیں اور ہر نئی عسکری پیشرفت پر کڑی نظر رکھے ہوئے ہیں۔