LIVE
Loading Breaking News...

بینک آف کینیڈا کا شرح سود 2.25 فیصد پر برقرار رکھنے کا فیصلہ

News Image
بینک آف کینیڈا نے معاشی ترقی اور تجارتی خدشات کے پیش نظر کلیدی شرح سود کو دو اعشاریہ پچیس فیصد پر برقرار رکھا ہے۔ گورنر کا کہنا ہے کہ مرکزی بینک افراط زر اور معاشی بڑھوتری دونوں کے حوالے سے فکرمند ہے۔
بینک آف کینیڈا نے معاشی صورتحال اور بین الاقوامی تجارتی خدشات کے پیش نظر اپنے اہم فیصلوں کا اعلان کرتے ہوئے کلیدی شرح سود کو دو اعشاریہ پچیس فیصد (2.25%) پر برقرار رکھنے کا فیصلہ کیا ہے۔ مرکزی بینک کے اس اقدام کا مقصد ملک میں معاشی استحکام کو فروغ دینا اور بڑھتے ہوئے معاشی دباؤ کا مقابلہ کرنا ہے۔ اس فیصلے سے قبل مالیاتی منڈیوں اور فاریکس ٹریڈرز کی جانب سے بینک آف کینیڈا کے اس اعلان پر گہری نظر رکھی جا رہی تھی، بالخصوص یو ایس ڈی سی اے ڈی (USDCAD) کے تاجروں کے لیے یہ فیصلہ انتہائی اہمیت کا حامل قرار دیا گیا ہے۔ اس فیصلے کے بعد کینیڈین ڈالر یعنی لونی (Loonie) کی قیمت میں ردعمل دیکھا گیا اور شرح سود کے اعلان کے بعد کرنسی کی مارکیٹ میں اتار چڑھاؤ درج کیا گیا۔ ماہرینِ معاشیات کا کہنا ہے کہ مضبوط معاشی ترقی کے آثار اور ممکنہ تجارتی خطرات کے درمیان توازن قائم رکھنے کے لیے مرکزی بینک نے محتاط رویہ اختیار کیا ہے۔ بینک کے گورنر نے رپورٹرز سے گفتگو کرتے ہوئے واضح کیا کہ مرکزی بینک افراط زر کی شرح اور معاشی ترقی دونوں کے حوالے سے یکساں طور پر فکرمند ہے، اور آنے والے دنوں میں بھی حالات کا قریب سے جائزہ لیا جاتا رہے گا۔ تجزیہ کاروں کے مطابق کینیڈا کے کاروباری آؤٹ لک اور پیداواری شعبے کے لیے یہ فیصلہ ملا جلا تاثر رکھتا ہے۔ ایک طرف جہاں شرح سود کو مستحکم رکھنے سے قرض لینے والوں کو فوری طور پر مزید بوجھ سے بچایا گیا ہے، وہیں دوسری طرف افراط زر پر قابو پانے کے لیے مزید سخت اقدامات کی توقعات بھی وابستہ ہیں۔ بینک آف کینیڈا کا آئندہ لائحہ عمل مکمل طور پر اس بات پر منحصر ہوگا کہ ملک میں مہنگائی کی رفتار اور عالمی منڈی کے رجحانات کس سمت میں آگے بڑھتے ہیں۔