Business
بی اینڈ کیو اور فائیو گائز کی کم از کم اجرت کی خلاف ورزی
برطانوی حکومت کی جانب سے کیے گئے ایک بڑے انکشاف میں سامنے آیا ہے کہ ملک کی چھ سو سے زائد نامور کمپنیوں نے اپنے ملازمين کو کم از کم قانونی اجرت سے بھی کم ادائیگیاں کیں۔ اس کارروائی کے نتیجے میں متاثرہ کارکنوں کو چار ملین پاؤنڈ کی رقم واپس دلائی گئی ہے۔
برطانوی حکومت نے ایک اہم انکشاف کرتے ہوئے بتایا ہے کہ ملک کی چھ سو سے زائد معروف کمپنیوں اور اداروں نے اپنے ملازمین کو قانون کے مطابق کم از کم اجرت (Minimum Wage) ادا کرنے میں کوتاہی برتی ہے۔ ان اداروں میں معروف ریٹیل برانڈ بی اینڈ کیو (B&Q) اور مشہور فوڈ چین فائیو گائز (Five Guys) جیسے بڑے نام بھی شامل ہیں۔ حکومت کے مطابق ان تمام کمپنیوں نے اپنے کارکنوں کو قانونی طور پر مقرر کردہ کم اجرت سے کم رقم دی، جو کہ لیبر قوانین کی صریح خلاف ورزی ہے۔
حکومتی اعداد و شمار کے مطابق، اس بڑی کارروائی کے نتیجے میں متاثرہ کارکنوں کو مجموعی طور پر چار ملین پاؤنڈ کی خطیر رقم واپس کی گئی ہے۔ حکومت نے اس بات پر زور دیا ہے کہ ملازمین کا استحصال کسی بھی صورت میں برداشت نہیں کیا جائے گا اور تمام کاروباری اداروں کے لیے لازمی ہے کہ وہ اپنے ہر کارکن کو اس کے جائز حقوق اور طے شدہ کم از کم اجرت کی فراہمی کو یقینی بنائیں۔ اس معاملے کے سامنے آنے کے بعد کاروباریحلقوں میں ہلچل مچ گئی ہے اور صارفین کی جانب سے بھی ان کمپنیوں پر تنقید کی جا رہی ہے۔
محکمہ کاروبار اور تجارت کی جانب سے جاری کردہ بیان میں کہا گیا ہے کہ قانون سب کے لیے برابر ہے اور جو بھی ادارہ اپنے کارکنوں کو کم اجرت دے گا، اس کے خلاف سخت قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔ حکومت کا یہ بھی کہنا ہے کہ اس طرح کے اقدامات کا مقصد محنت کش طبقے کے حقوق کا تحفظ کرنا اور مارکیٹ میں منصفانہ کاروباری مسابقت کو فروغ دینا ہے۔ متاثرہ کارکنوں کو ان کا حق ملنے پر مزدور یونینز نے حکومتی کارروائی کو سراہا ہے اور مزید سخت نگرانی کا مطالبہ کیا ہے۔