World
امریکی ایرانی کشیدگی، ٹرمپ کا بیان اور حالیہ نقصانات
سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا ہے کہ امریکہ اور ایران کے درمیان تازہ ترین کشیدگی اور جھڑپیں زیادہ طویل عرصے تک جاری نہیں رہیں گی۔ دوسری جانب ایرانی وزارت صحت نے تصدیق کی ہے کہ امریکی حملوں کے نتیجے میں جاں بحق ہونے والوں کی تعداد بڑھ کر 19 ہو گئی ہے جن میں دو بچے بھی شامل ہیں۔
واشنگٹن اور تہران کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی اور حالیہ فوجی جھڑپوں کے تناظر میں سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا ایک اہم بیان سامنے آیا ہے۔ انہوں نے اپنے ایک حالیہ انٹرویو یا بیان میں دعویٰ کیا ہے کہ امریکہ اور ایران کے درمیان ہونے والی نئی جھڑپیں زیادہ طویل نہیں چلیں گی۔ ٹرمپ کے اس بیان نے بین الاقوامی سطح پر ایک بار پھر بحث کو جنم دے دیا ہے جبکہ مبصرین اس صورتحال کا گہرائی سے جائزہ لے رہے ہیں تاکہ خطے میں امن کی بحالی کے امکانات کا اندازہ لگایا جا سکے۔ دوسری جانب زمینی حقائق اس کے برعکس انتہائی تشویشناک صورتحال کی عکاسی کر رہے ہیں جہاں عام شہریوں کو بھی شدید نقصانات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ ایرانی وزارت صحت کی طرف سے جاری کردہ تازہ ترین اعداد و شمار کے مطابق امریکی حملوں کے نتیجے میں ملک بھر میں جاں بحق ہونے والے افراد کی تعداد بڑھ کر 19 ہو گئی ہے۔ ان افسوسناک ہلاکتوں میں دو معصوم بچے بھی شامل ہیں جو اس تنازعے کی زد میں آ کر اپنی جان سے ہاتھ دھو بیٹھے۔ اس انسانی نقصان نے خطے میں کشیدگی کو مزید گہرا کر دیا ہے اور بین الاقوامی انسانی حقوق کی تنظیموں نے دونوں جانب سے شہریوں کے تحفظ کو یقینی بنانے کی اپیل کی ہے۔ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اگرچہ سیاسی رہنما اس طرح کے تنازعات کے جلد خاتمے کے دعوے کر رہے ہیں، تاہم زمینی سطح پر فوجی کارروائیوں اور بڑھتی ہوئی کشیدگی کے سدباب کے لیے فوری اور سنجیدہ سفارتی کوششوں کی اشد ضرورت ہے۔ دونوں ممالک کے درمیان اس جاری محاذ آرائی نے مشرق وسطیٰ کے امن کو ایک بار پھر شدید خطرات سے دوچار کر دیا ہے اور عالمی برادری صورتحال پر گہری نظر رکھے ہوئے ہے۔