World
اسرائیلی مؤقف: غزہ سے انخلا حماس کی غیر مسلح کاری سے مشروط
اسرائیلی حکام کا کہنا ہے کہ غزہ میں حماس کے مکمل اور حقیقی ہتھیار پھینکنے تک فوجیں پیچھے نہیں ہٹیں گی۔ دوسری جانب ڈونلڈ ٹنرمپ کا اصرار ہے کہ اسرائیل اس فلسطینی گروپ کی جانب سے ہتھیار چھوڑنے کی تجویز پر انتہائی خوش ہے۔
عالمی امور اور مشرق وسطی کی موجودہ صورتحال کے تناظر میں ایک اہم اسرائیلی عہدیدار نے واضح کیا ہے کہ غزہ کی پٹی سے اسرائیلی افواج کا مکمل انخلا اس وقت تک عمل میں نہیں لایا جائے گا جب تک فلسطینی عسکریت پسند گروپ حماس کی جانب سے 'حقیقی' بنیادوں پر ہتھیار نہیں پھینکے جاتے۔ یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب خطے میں مستقل امن کے قیام اور جاری کشیدگی کے خاتمے کے لیے مختلف بین الاقوامی اور سفارتی کوششیں جاری ہیں۔ اسرائیلی حکومت کا مؤقف ہے کہ سکیورٹی خدشات اور شہریوں کے تحفظ کو یقینی بنانے کے لیے حماس کا غیر مسلح ہونا ناگزیر ہے۔ دوسری جانب امریکی سیاست اور سفارتی حلقوں میں بھی اس مسئلے پر گرما گرم بحث جاری ہے۔ سابق امریکی صدر اور اہم سیاسی شخصیت ڈونلڈ ٹرمپ نے اس حوالے سے اپنے ایک بیان میں اصرار کیا ہے کہ اسرائیل اس مجوزہ منصوبے سے مکمل طور پر مطمئن ہے جس کے تحت فلسطینی گروپ کو بدلے میں اسرائیلی انخلا کی پیشکش کے ساتھ اپنے تمام ہتھیار ترک کرنا ہوں گے۔ مبصرین کا ماننا ہے کہ فریقین کے درمیان یہ بنیادی اختلافات اور شرائط ایک طویل المدتی معاہدے کی راہ میں بڑی رکاوٹ بنے ہوئے ہیں۔ دونوں جانب سے سخت بیانات اور شرائط کے باعث غزہ میں انسانی صورتحال اور جنگ بندی کے امکانات تاحال غیر یقینی صورتحال کا شکار ہیں۔ عالمی برادری اور انسانی حقوق کی تنظیمیں اس کشیدگی کے فوری خاتمے اور پائیدار حل کے لیے فریقین پر زور دے رہی ہیں تاکہ خطے میں مزید خون خرابے کو روکا جا سکے اور متاثرہ آبادی کو درکار ریلیف فراہم کیا جا سکے تاہم زمینی حقائق اس بات کی غمازی کرتے ہیں کہ امن کا حصول فی الحال ایک طویل اور کٹھن سفر ثابت ہوگا۔