World
گرے ہاؤنڈز کی آسٹریلیا منتقلی، نیوزی لینڈ میں پابندی کا نفاذ
نیوزی لینڈ میں گرے ہاؤنڈ ریسنگ پر پابندی کے مؤثر ہونے کے بعد کم از کم ڈیڑھ سو کتوں کو خصوصی پروازوں کے ذریعے آسٹریلیا روانہ کیا جا رہا ہے۔ ان جانوروں کی بحالی اور نئی منزل تک پہنچانے کے لیے متعلقہ ادارے تمام ضروری انتظامات کو حتمی شکل دے رہے ہیں۔
نیوزی لینڈ میں گرے ہاؤنڈ ریسنگ پر پابندی کا باضابطہ نفاذ ہو چکا ہے جس کے بعد اس کھیل سے وابستہ کتوں کی نقل و حمل کا سلسلہ شروع ہو گیا ہے۔ دستیاب اطلاعات کے مطابق کم از کم دو چارٹرڈ پروازیں لگ بھگ ڈیڑھ سو گرے ہاؤنڈ کتوں کو لے کر آسٹریلیا کی مشرقی ریاستوں کے لیے روانہ ہوں گی۔ یہ اقدام اس وقت سامنے آیا جب نیوزی لینڈ کی حکومت نے اس متنازعہ ریسنگ انڈسٹری کو بند کرنے کا حتمی فیصلہ کیا، جس کے بعد جانوروں کی فلاح و بہبود کے ادارے متحرک ہو گئے۔ حکام اور فلاحی تنظیموں کی مشترکہ کوششوں کے تحت ان کتوں کی محفوظ منتقلی کو یقینی بنایا جا رہا ہے تاکہ انہیں نئے ماحول میں بہتر زندگی فراہم کی جا سکے۔ آسٹریلیا روانہ ہونے والے ان کتوں کو ریسنگ کے ماحول سے نکال کر گھریلو اور محفوظ پناہ گاہوں میں منتقل کرنے کے منصوبے بنائے گئے ہیں، جہاں جانوروں کے حقوق کے کارکن ان کی دیکھ بھال کریں گے۔ اس پوری منتقلی کے عمل میں بین الاقوامی پروٹوکولز اور حیوانی حقوق کے قوانین کا مکمل خیال رکھا جا رہا ہے تاکہ طویل سفر کے دوران کتوں کو کسی قسم کی پریشانی کا سامنا نہ کرنا پڑے۔ اس پیش رفت نے ایک طرف جہاں نیوزی لینڈ میں ایک طویل عرصے سے جاری ریسنگ کلچر کے خاتمے پر بحث کو جنم دیا ہے، وہیں دوسری طرف جانوروں کے حقوق کے لیے کام کرنے والے کارکنان نے اسے ایک بڑی کامیابی قرار دیا ہے۔