Politics
خیبر پختونخواہ کا ہائیڈل منافع، وفاق پر آئین شکنی کا الزام
خیبر پختونخواہ کے مشیر کا کہنا ہے کہ صوبے کو اس کے جائز ہائیڈل منافع سے محروم رکھنا آئین کی خلاف ورزی ہے۔ حکومت اس معاملے پر وفاق کے خلاف عدالت سے رجوع کرنے کا ارادہ رکھتی ہے۔
پشاور: خیبر پختونخواہ کے مشیر نے وفاقی حکومت پر شدید تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ صوبے کو اس کے آئینی حق اور ہائیڈل پرافٹ سے محروم رکھا جا رہا ہے جو کہ آئین پاکستان کی صریح خلاف ورزی ہے۔ صوبائی حکومت کا موقف ہے کہ بجلی کی پیداوار اور قدرتی وسائل میں صوبے کا منصفانہ حصہ ملنا چاہیے لیکن مرکز کی جانب سے اس معاملے میں طویل عرصے سے ٹাল مٹول سے کام لیا جا رہا ہے۔ صوبائی حکام کا کہنا ہے کہ اس ناانصافی کے خلاف اب مزید خاموشی اختیار نہیں کی جائے گی اور وفاق سے واجب الادا بقایا جات کی وصولی کے لیے عدالت کا دروازہ بھی کھٹکھٹایا جائے گا۔ گورنر خیبر پختونخواہ نے بھی صوبے میں توانائی کے تمام ترقیاتی منصوبوں کو بروقت مکمل کرنے کی ضرورت پر زور دیا ہے تاکہ عوام کو ریلیف مل سکے۔ وزیر اعلیٰ خیبر پختونخواہ پہلے ہی متعدد بار اس بات کا اعادہ کر چکے ہیں کہ وفاقی سطح پر صوبائی حقوق کا تحفظ ان کی اولین ترجیح ہے۔ صوبے کے عوام اور سیاسی حلقوں میں بھی اس بات پر شدید تشویش پائی جاتی ہے کہ پن بجلی پیدا کرنے کے باوجود اس کا معاشی فائدہ مقامی آبادی کو نہیں مل رہا۔ ماہرین کا ماننا ہے کہ اگر وفاقی اور صوبائی حکومتوں کے درمیان اس دیرینہ مالی تنازع کا کوئی متفقہ اور منصفانہ حل نہ نکالا گیا تو سیاسی کشیدگی میں مزید اضافہ ہو سکتا ہے۔