LIVE
Loading Breaking News...

قومی اسمبلی اجلاس: اراکین کی کم حاضری پر تشویش کا اظہار

News Image
قومی اسمبلی کے 29ویں سیشن کے دوران اراکین کی کم حاضری پر شدید تشویش کا اظہار کیا گیا ہے۔ رپورٹ کے مطابق صرف پینسٹھ اراکین اسمبلی نے تمام آٹھ نشستوں میں شرکت کی۔
اسلام آباد: قومی اسمبلی کے حالیہ انتیسویں (29ویں) سیشن کے دوران اراکین کی حاضری کا انتہائی تشویشناک ریکارڈ سامنے آیا ہے، جس نے پارلیمانی کارکردگی اور عوامی نمائندوں کی سنجیدگی پر کئی سوالیہ نشان کھڑے کر دیے ہیں۔ پارلیمانی ذرائع کے مطابق اس پورے سیشن میں کل آٹھ نشستیں منعقد ہوئیں جن میں اراکین کی اکثریت کی عدم دلچسپی واضح طور پر دکھائی دی۔ پارلیمنٹ کی کارروائی اور قانون سازی جیسے اہم امور میں اراکین کی اس طرح عدم موجودگی نے ملک بھر میں ایک نئی بحث کو جنم دیا ہے۔ رپورٹ کے اعداد و شمار کے مطابق، سیشن کے دوران ہونے والی تمام آٹھ کے آٹھ نشستوں میں شرکت کرنے والے اراکین کی کل تعداد صرف پینسٹھ (65) ریکارڈ کی گئی۔ باقی اراکین نے یا تو سیشن کے دوران طویل غیبت اختیار کی یا پھر وہ مختلف اجلاسوں سے غیر حاضر رہے۔ پارلیمانی امور کے ماہرین کا ماننا ہے کہ قانون ساز ادارے کے اندر اس قسم کا رویہ جمہوریت کی روح کے منافی ہے کیونکہ عوام نے اپنے ووٹ کی طاقت سے اراکین کو اس لیے منتخب کیا تھا کہ وہ اسمبلی کے ایوان میں ان کے مسائل کی بھرپور نمائندگی کریں۔ حالیہ سیشن کے دوران اس کم حاضری کے معاملے پر سیاسی حلقوں اور عوامی سطح پر بھی شدید تنقید کی جا رہی ہے۔ شہریوں اور سول سوسائٹی کے نمائندوں کا کہنا ہے کہ بھاری تنخواہوں اور مراعات کے باوجود اراکین اسمبلی کا پارلیمانی کارروائی سے دور رہنا انتہائی افسوسناک ہے۔ عوامی مفاد کے کئی اہم امور اور قانون سازی کے عمل کو کورم کی کمی یا اراکین کی کم تعداد کی وجہ سے شدید نقصان کا سامنا کرنا پڑتا ہے، جو کہ پارلیمانی نظام کے بنیادی اصولوں کی خلاف ورزی ہے۔ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ سیاسی جماعتوں کی قیادت کو بھی اس معاملے کا سنجیدہ نوٹس لینا چاہیے تاکہ ایوان کے اندر اراکین کی باقاعدہ حاضری کو یقینی بنایا جا سکے۔ اگر اراکین خود ہی اسمبلی کے اجلاسوں سے غیر حاضر رہیں گے تو ملک کے اہم مسائل پر بامقصد بحث اور قانون سازی کا عمل متاثر ہوتا رہے گا۔ توقع کی جا رہی ہے کہ اس رپورٹ کے منظر عام پر آنے کے بعد قومی اسمبلی کی قیادت اس حوالے سے کوئی مؤثر لائحہ عمل مرتب کرے گی تاکہ آئندہ اجلاسوں میں حاضری کے تناسب کو بہتر بنایا جا سکے۔