Health
ذہنی صحت پالیسی اجلاس میں نمائندگی کے مسائل پر تشویش
ملک میں ذہنی صحت کی قومی پالیسی کے حوالے سے منعقدہ ایک اہم اجلاس میں متعلقہ شعبوں اور اسٹیک ہولڈرز کی مناسب نمائندگی نہ ہونے پر تشویش کا اظہار کیا گیا ہے۔ اجلاس کے شرکاء کا کہنا ہے کہ پالیسی سازی کے عمل کو زیادہ جامع اور مؤثر بنانے کی ضرورت ہے۔
اسلام آباد: ذہنی صحت کی قومی پالیسی کے سلسلے میں منعقدہ ایک حالیہ اعلیٰ سطحی اجلاس کے دوران پالیسی سازی کے عمل میں متعلقہ ماہرین اور تمام متعلقہ فریقین کی نمائندگی کے فقدان پر شدید تحفظات کا اظہار کیا گیا ہے۔ اس اہم بیٹھک میں ملک بھر سے ماہرینِ نفسیات، سماجی کارکنوں اور صحت کے شعبے سے وابستہ افراد نے شرکت کی، جہاں انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ ذہنی صحت جیسے حساس اور اہم موضوع پر پالیسی بناتے وقت نچلی سطح کے حقائق اور تمام اسٹیک ہولڈرز کی آراء کو شامل کرنا ناگزیر ہے۔
اجلاس کے دوران شرکاء کا کہنا تھا کہ اگر پالیسی سازی کے عمل کو محدود رکھا جائے گا اور اس میں تمام متعلقہ شعبوں کی مناسب نمائندگی کو یقینی نہیں بنایا جائے گا، تو اس کے نتائج معاشرے کے نچلے طبقے تک مثبت انداز میں نہیں پہنچ سکیں گے۔ ماہرین کا یہ بھی ماننا ہے کہ ذہنی صحت کے مسائل کا شکار افراد اور ان کے اہلِ خانہ کے تجربات کو سامنے رکھنا پالیسی کو مزید عملی اور کارآمد بنانے میں مدد دے سکتا ہے، تاہم موجودہ مسودے میں اس پہلو کو نظر انداز کیا گیا ہے۔
بحث کے دوران اس بات پر بھی روشنی ڈالی گئی کہ پاکستان میں ذہنی صحت سے متعلق مسائل میں روز بروز اضافہ ہو رہا ہے، لیکن اس کے مقابلے میں سرکاری سطح پر جو اقدامات اٹھائے جا رہے ہیں وہ ناکافی ہیں۔ شرکاء نے متفقہ طور پر مطالبہ کیا کہ اس پالیسی پر نظرثانی کی جائے اور تمام متعلقہ ماہرین کو اعتماد میں لے کر ایک جامع اور سب کے لیے قابلِ قبول لائحہ عمل تیار کیا جائے تاکہ ملک بھر کے شہریوں کو ذہنی صحت کی بہتر سہولیات اور معاونت فراہم کی جا سکے۔