LIVE
Loading Breaking News...

مصنوعی ذہانت کے ضوابط: امریکہ کا نرم رویہ اور یورپی یونین کی سخت قانون سازی

News Image
امریکہ اور ٹرمپ انتظامیہ نے جی ٹوئنٹی ممالک پر زور دیا ہے کہ وہ مصنوعی ذہانت کی ترقی کے حامی اور نرم قوانین اپنائیں۔ اس کے برعکس، یورپی یونین مصنوعی ذہانت کو قابو میں رکھنے کے لیے سخت قوانین اور نئی قانون سازی پر عمل پیرا ہے۔
عالمی سطح پر مصنوعی ذہانت یعنی اے آئی (AI) کے ضوابط اور قوانین کو لے کر ایک بڑا تنازعہ کھڑا ہو گیا ہے، جہاں امریکہ اور یورپی یونین کا موقف بالکل متضاد نظر آتا ہے۔ حال ہی میں جی ٹوئنٹی اجلاس کے دوران امریکی حکام اور ٹیکنالوجی کمپنیوں کے سربراہان نے اس بات پر زور دیا ہے کہ مصنوعی ذہانت کی صنعت کو ترقی دینے کے لیے نرم قوانین نافذ کیے جائیں۔ امریکی انتظامیہ چاہتی ہے کہ اختراعات کی راہ میں روڑے اٹکانے کے بجائے ایسے اقدامات کیے جائیں جو اس شعبے میں مزید سرمایہ کاری اور جدت کو فروغ دیں۔ دوسری جانب، یورپی یونین کا موقف اس کے بالکل برعکس ہے۔ یورپی یونین مصنوعی ذہانت کے استعمال کو محدود کرنے اور اس کے ممکنہ خطرات سے نمٹنے کے لیے سخت اور جامع قوانین متعارف کرانے کے حق میں ہے۔ یورپی رہنماؤں کا ماننا ہے کہ اے آئی کے بے لگام استعمال سے معاشرتی اور اخلاقی مسائل جنم لے سکتے ہیں، اس لیے اس پر کڑی نظر رکھنا ناگزیر ہے۔ اس بحث میں معروف صنعت کاروں اور ٹیک رہنماؤں نے بھی حصہ لیا ہے، جن میں ایلون مسک اور اوپن اے آئی کے سربراہ سیم ألٹمین جیسے نام شامل ہیں۔ ایلون مسک نے جی ٹوئنٹی میں یورپی یونین کے سخت ضوابط کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے مصنوعی ذہانت کے ڈیٹا سینٹرز اور تکنیکی ترقی کا دفاع کیا۔ انہوں نے کہا کہ ضرورت سے زیادہ ضابطہ بندی ٹیکنالوجی کی دوڑ میں پیچھے دھکیل سکتی ہے۔ ادھر سیم ألٹمین نے بھی اس ٹیکنالوجی کو عالمی سطح پر ناگزیر قرار دیا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ آنے والے دنوں میں عالمی منڈی اور قانون سازی کے فورمز پر امریکہ اور یورپی یونین کے یہ اختلافات مزید شدت اختیار کر سکتے ہیں، جس سے دنیا بھر کی ٹیک کمپنیاں متاثر ہوں گی۔