Business
سونے کی قیمتوں میں نمایاں اضافہ، ڈالر اور بانڈز میں مندی کا رجحان
بین الاقوامی مارکیٹ میں امریکی ڈالر اور بانڈ यील्डز میں کمی کے باعث سونے کی قیمتوں میں تیزی ریکارڈ کی گئی ہے۔ سرمایہ کار اب فیڈرل ریزرو کے آئندہ اقدامات کا اندازہ لگانے کے لیے اہم امریکی روزگار کی رپورٹ کے منتظر ہیں۔
عالمی مارکیٹ میں سونے کی قیمتوں میں ایک بار پھر تیزی کا رجحان دیکھا جا رہا ہے جس کی بنیادی وجہ امریکی ڈالر اور ٹریژری بانڈ यील्डز میں آنے والی کمی ہے۔ معاشی ماہرین کے مطابق، کرنسی مارکیٹ میں حالیہ ہلچل اور جاپانی ین میں مبینہ مداخلت کے اثرات بھی سونے کی مارکیٹ پر مرتب ہوئے ہیں، جس سے قیمتی دھات کو وقتی استحکام اور سہارا ملا ہے۔ سرمایہ کار اس وقت انتہائی احتیاط سے کام لے رہے ہیں کیونکہ دنیا بھر کی نظریں آنے والی اہم امریکی نان فارم پے رول (nonfarm payrolls) کی رپورٹ پر مرکوز ہیں۔ اس رپورٹ سے امریکی معیشت کی صحت اور فیڈرل ریزرو کے آئندہ شرح سود کے فیصلوں کے بارے میں واضح اشارے ملیں گے۔ فیڈرل ریزرو کی جانب سے شرح سود میں اضافے کے امکانات کے تناظر میں سونے کی مارکیٹ میں اتار چڑھاؤ جاری ہے۔ گولڈ کی قیمتیں حال ہی میں اہم سپورٹ لیول کا تجربہ کر چکی ہیں اور تجارتی سرگرمیوں میں شریک افراد کا کہنا ہے کہ مارکیٹ کا مستقبل بڑی حد تک آنے والے امریکی معاشی اعداد و شمار پر منحصر ہوگا۔ دوسری جانب، مقامی سطح پر بھی سونے کی خریداری اور اس کی قیمتوں کے رجحانات پر عالمی منڈی کے اثرات صاف ظاہر ہو رہے ہیں۔ بھارت اور دیگر ایشیائی مارکیٹوں میں بھی 24 کیراط اور 22 کیراط سونے کے نرخوں میں عالمی مارکیٹ کے مطابق تبدیلیاں دیکھنے میں آ رہی ہیں۔ تجزیہ کاروں کا مشورہ ہے کہ موجودہ غیر یقینی معاشی صورتحال میں سرمایہ کاروں کو محتاط حکمت عملی اپنانی چاہیے کیونکہ امریکی روزگار کے اعداد و شمار آنے کے بعد عالمی مالیاتی مارکیٹوں میں بڑی نقل و حرکت متوقع ہے۔