Health
نیند کا اسکور بہتر کرنے کی کوششیں اور اس کے نقصانات
نیند کے اسکور کو بہتر بنانے کی مسلسل کوششیں بعض اوقات الٹا اثر دکھا سکتی ہیں جس سے ذہنی تناؤ بڑھتا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ نیند کے بارے میں زیادہ سوچنا بے خوابی اور دیگر مسائل کا سبب بن سکتا ہے۔
آج کے دور میں سمارٹ واچز اور فٹনেস ٹریکرز کا استعمال عام ہو چکا ہے جو صارفین کو ہر صبح ان کی نیند کا ایک خاص اسکور فراہم کرتے ہیں۔ بہت سے لوگ اس اسکور کو بہتر بنانے کے لیے مختلف قسم کی کوششیں کرتے ہیں، جیسے کہ جلدی بستر پر جانا، نیند کے لیے مخصوص ماحول بنانا اور گھنٹوں اس کا حساب رکھنا۔ تاہم، طبی ماہرین کا کہنا ہے کہ نیند کے معیار کو بہتر بنانے کے لیے یہ حد سے زیادہ جنون اور کوششیں اصل میں نیند کو مزید خراب کر سکتی ہیں۔ جب کوئی شخص اپنے نیند کے اسکور کو لے کر حد سے زیادہ فکر مند ہو جاتا ہے، تو اس کے نتیجے میں جسم میں تناؤ اور اضطراب کی سطح بڑھ جاتی ہے۔ یہ ذہنی دباؤ دراصل پرسکون نیند کے حصول میں سب سے بڑی رکاوٹ بنتا ہے، جس سے الٹا اثر پڑتا ہے اور نیند مزید متاثر ہوتی ہے۔ ماہرین کا مزید کہنا ہے کہ نیند کوئی ایسی چیز نہیں ہے جسے مکمل طور پر کنٹرول کیا جا سکے یا اس کے لیے کسی ریاضیاتی فارمولے پر سختی سے عمل کیا جائے۔ ہر انسان کا جسم اور اس کی حیاتیاتی گھڑی مختلف ہوتی ہے، اس لیے ہر رات ایک جیسا اسکور حاصل کرنا نہ صرف ناممکن ہے بلکہ غیر ضروری بھی ہے۔ ٹریکنگ ڈیوائسز کے ذریعے ملنے والے اعداد و شمار پر ضرورت سے زیادہ بھروسہ کرنا اور معمولی سی کمی پر پریشان ہو جانا ایک نئی ذہنی الجھن کو جنم دیتا ہے جسے طبی اصطلاح میں آرتھوسومنیا بھی کہا جاتا ہے۔ اگر آپ بھی اپنی نیند کے اسکور کو لے کر اکثر پریشان رہتے ہیں، تو بہتر یہی ہے کہ ان ڈیجیٹل آلات کے استعمال میں اعتدال لائیں۔ ڈاکٹروں کا مشورہ ہے کہ نیند کو بہتر بنانے کے لیے روایتی طریقوں پر توجہ دی جائے، جیسے کہ سونے اور جاگنے کا ایک معمول برقرار رکھنا، سونے سے پہلے ڈیجیٹل سکرین سے گریز کرنا اور بے وجہ کے دباؤ سے آزاد رہنا۔ پرسکون نیند کے لیے ضروری ہے کہ ذہنی طور پر پرسکون رہا جائے نہ کہ کسی ڈیجیٹل اسکور کو پورا کرنے کی فکر میں راتوں کی نیند خراب کی جائے۔