LIVE
Loading Breaking News...

برطانوی سیاست میں میگا ڈونرز پر قدغن، سیاسی اصلاحات کا نیا لائحہ عمل

News Image
برطانوی وزیر کا کہنا ہے کہ حکومت ملک کی سیاست میں بڑے مالیاتی ڈونرز کے اثر و رسوخ کو کم کرنے کے لیے اہم اقدامات اٹھائے گی۔ ارکان پارلیمنٹ کی جانب سے مقامی ڈونرز پر حد مقرر کرنے کے مطالبات بھی سامنے آ رہے ہیں۔
برطانیہ کے سیاسی منظر نامے میں ایک بار پھر فنڈنگ کے شفاف نظام اور سیاسی چندوں پر بحث شدت اختیار کر گئی ہے۔ تازہ ترین پیش رفت کے مطابق، اینڈی برنہم کی جانب سے برطانوی سیاست میں 'میگا ڈونرز' کے اثر و رسوخ کو محدود کرنے کے لیے اہم اقدامات اٹھائے جانے کا عندیہ دیا گیا ہے۔ حکومتی حلقوں اور ارکان پارلیمنٹ کے اندر اس بات پر زور دیا جا رہا ہے کہ انتخابی عمل اور سیاسی جماعتوں کی مالی معاونت کو زیادہ شفاف بنایا جائے تاکہ چند طاقتور افراد یا اداروں کا سیاسی فیصلوں پر غلبہ کم سے کم کیا جا سکے۔ حالیہ ہفتوں کے دوران متعدد اراکین پارلیمنٹ نے حکومت سے پرزور مطالبہ کیا ہے کہ وہ برطانیہ میں مقیم بڑے مالیاتی ڈونرز یعنی 'میگا ڈونرز' کی جانب سے دیے جانے والے بھاری بھرکم چندوں پر ایک مناسب حد مقرر کرے۔ ان ارکان کا مؤقف ہے کہ لامحدود چندے جمہوریت کی روح کے منافی ہیں اور اس سے عام ووٹرز کا سیاسی نظام پر اعتماد متزلزل ہوتا ہے۔ اس حوالے سے حکومتی وزراء بھی اس بات کا اعتراف کر رہے ہیں کہ انتخابی فنڈنگ کے قوانین میں تبدیلی وقت کی اہم ضرورت ہے تاکہ عام شہریوں کی آواز کو سیاست میں مقدم رکھا جا سکے۔ دوسری جانب سیاسی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ برطانوی سیاست میں ان اصلاحات کا نفاذ ایک پیچیدہ عمل ثابت ہو سکتا ہے کیونکہ تمام بڑی سیاسی جماعتیں اپنی انتخابی مہمات کے لیے بڑے مالیاتی ڈونرز پر کسی نہ کسی حد تک انحصار کرتی ہیں۔ تاہم عوامی دباؤ اور سیاسی شفافیت کے مطالبات کے پیش نظر حکومت کے پاس اس معاملے پر سنجیدگی سے غور کرنے کے علاوہ کوئی چارہ نہیں۔ توقع کی جا رہی ہے کہ آنے والے دنوں میں پارلیمنٹ کے ایوانوں میں اس موضوع پر مزید گرما گرم بحث ہوگی اور ممکنہ طور پر چندوں کی حد مقرر کرنے سے متعلق کوئی نیا قانون بھی زیر غور لایا جائے گا۔