World
اقوام متحدہ کی ال نینو اور موسمیاتی تبدیلیوں پر تشویشناک رپورٹ
اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوتریس نے خبردار کیا ہے کہ ال نینو کا رجحان دنیا بھر میں شدید گرمی، سیلاب اور خشک سالی کو مزید تیز کر دے گا۔ انہوں نے عالمی سطح پر فوسل فیول کے نئے پراجیکٹس فوری طور پر بند کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔
اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوتریس نے خبردار کیا ہے کہ ایک طاقتور ال نینو کا ظہور ہمارے پہلے سے ہی گرم ہوتے ہوئے سیارے پر موسمیاتی شدت میں خطرناک حد تک اضافہ کر دے گا۔ دنیا بھر میں بڑھتے ہوئے درجہ حرارت، شدید ہیٹ ویوز، تباہ کن سیلاب اور طویل خشک سالی کے تناظر میں انہوں نے عالمی رہنماؤں سے فوری اور سنجیدہ اقدامات اٹھانے کا پرزور مطالبہ کیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ موسمیاتی تبدیلیاں اب کوئی مستقبل کا خطرہ نہیں بلکہ یہ ہمارے حال کا ایک تلخ اور خطرناک حقیقت بن چکی ہیں۔ اپنے ایک بیان میں اقوام متحدہ کے سربراہ نے اس بات پر زور دیا کہ دنیا کو فوسل فیول یعنی رکازی ایندھن کے نئے منصوبوں پر فوری طور پر پابندی عائد کر دینی چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ کوئلے، تیل اور گیس کی نئی تلاش اور استعمال سے عالمی درجہ حرارت میں کمی لانے کی تمام کوششیں ناکام ہو رہی ہیں اور کرہ ارض کو بچانے کے لیے ہمیں سبز توانائی کی طرف تیزی سے منتقل ہونا ہوگا۔ ماہرین موسمیات کے مطابق ال نینو ایک قدرتی موسمیاتی مظہر ہے جو بحرالکاہل میں پانی کے درجہ حرارت میں اضافے کا باعث بنتا ہے، اور اس کے اثرات پوری دنیا کے موسمی نظام پر براہ راست مرتب ہوتے ہیں۔ اس سال ال نینو کے شدید اثرات کے باعث دنیا کے مختلف خطوں میں ریکارڈ توڑ گرمی پڑنے کا امکان ہے، جس سے نہ صرف انسانی زندگی متاثر ہوگی بلکہ زراعت، پانی کے ذخائر اور ماحولیاتی نظام کو بھی شدید خطرات لاحق ہیں۔ اقوام متحدہ نے تمام ممالک بالخصوص صنعتی لحاظ سے ترقی یافتہ ممالک پر زور دیا ہے کہ وہ گرین ہاؤس گیسوں کے اخراج میں کمی کے اپنے وعدوں کو پورا کریں اور ترقی پذیر ممالک کو اس ماحولیاتی بحران سے نمٹنے کے لیے مالی اور تکنیکی مدد فراہم کریں۔ اگر بروقت اور مؤثر اقدامات نہ کیے گئے تو آنے والے دنوں میں موسمیاتی آفات کی شدت اور تعدد میں مزید خطرناک اضافہ ہو سکتا ہے۔