LIVE
Loading Breaking News...

ڈیفنے کاروانا گالیزیا قتل کیس: آخری ملزم بری

News Image
مالٹا کی ایک عدالت نے سن 2017 میں مشہور تحقیقاتی صحافی ڈیفنے کاروانا گالیزیا کے ہائی پروفائل قتل کیس میں مقدمے کا سامنا کرنے والے آخری ملزم کو بھی بری کر دیا۔ اس عدت فیصلے کے بعد ملک بھر میں عدالتی کارروائی اور انصاف کے تقاضوں پر بحث ایک بار پھر شروع ہو گئی ہے۔
مالٹا میں سن 2017 کے دوران بم دھماکے میں جاں بحق ہونے والی معروف اور نڈر تحقیقاتی صحافی ڈیفنے کاروانا گالیزیا کے قتل کے مقدمے میں ایک نیا اور اہم موڑ سامنے آیا ہے۔ عدالت نے اس ہائی پروفائل قتل کیس میں مقدمے کا سامنا کرنے والے آخری ملزم کو بھی الزامات سے بری کر دیا ہے۔ اس فیصلے کے بعد عدالتی نظام اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کی کارکردگی پر سوالات اٹھائے جا رہے ہیں جبکہ صحافتی تنظیموں کی طرف سے بھی گہری تشویش کا اظہار کیا جا رہا ہے۔ ڈیفنے کاروانا گالیزیا مالٹا کی ایک انتہائی جرأت مند صحافی تھیں جنہوں نے ملک کی سیاسی شخصیات اور طاقتور کاروباری حلقوں میں مبینہ کرپشن کو بے نقاب کیا تھا۔ ان کی ہلاکت کے بعد نہ صرف مالٹا بلکہ پورے یورپ میں سنسنی پھیل گئی تھی اور اس المناک واقعے نے بین الاقوامی سطح پر بھی شدید غم و غصے کو جنم دیا تھا۔ تحقیقات کے دوران کئی افراد کو حراست میں لیا گیا تھا اور اس کیس کو ملک کی تاریخ کے سب سے پیچیدہ اور حساس مقدمات میں شمار کیا جاتا ہے۔ اس تازہ ترین عدالتی فیصلے کے بعد کیس کی قانونی حیثیت اور تفتیشی مراحل پر ایک بار پھر بحث شروع ہو گئی ہے۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ اس فیصلے سے انصاف کے تقاضے پورے ہونے کے حوالے سے ابہام پیدا ہوا ہے، جبکہ دوسری جانب متعلقہ قانونی فریقین عدالت کے اس فیصلے کا جائزہ لے رہے ہیں۔ ملک کے باشعور شہریوں اور صحافتی حلقوں کا مطالبہ ہے کہ اس گھنائونے جرم کے تمام محرکات کو سامنے لایا جائے تاکہ حق اور سچ کی خاطر جان دینے والی صحافی کے ساتھ انصاف کا بول بالا ہو سکے۔