World
مشرقی بحرالکاہل میں امریکی فورسز کا آپریشن، منشیات سمگلروں کی بوٹ تباہ
امریکی فورسز نے مشرقی بحرالکاہل میں کارروائی کرتے ہوئے ایک مشکوک کشتی کو گھیرے میں لے لیا۔ حکام کے مطابق یہ کشتی منشیات سمگلروں کے لیے فلوٹنگ ریفیولنگ سٹیشن کے طور پر استعمال ہو رہی تھی۔
امریکی فورسز نے مشرقی بحرالکاہل میں ایک بڑی کارروائی کرتے ہوئے مبینہ طور پر منشیات سمگلروں کے زیر استعمال ایک مشکوک کشتی کو گھیرے میں لے لیا اور بعد میں اسے تباہ کر دیا۔ امریکی حکام کی جانب سے جاری کردہ ابتدائی معلومات کے مطابق، یہ کشتی سمندر میں منشیات کی سمگلنگ کرنے والے گروہوں کے لیے ایک تیرتے ہوئے ریفیولنگ سٹیشن یعنی فلوٹنگ فیول سٹیشن کے طور پر کام کر رہی تھی، جہاں سے سمگلنگ میں استعمال ہونے والی مختلف چھوٹی کشتیوں کو ایندھن فراہم کیا جاتا تھا۔ یہ کارروائی بین الاقوامی پانیوں میں انسدادِ منشیات کے وسیع تر آپریشنز کا حصہ بتائی جاتی ہے جس کا مقصد سمگلنگ کے روٹس کو کاٹنا اور مجرمانہ نیٹ ورکس کو کمزور کرنا ہے۔ امریکی حکام کا کہنا ہے کہ اسٹیٹ آف دی آرٹ نگرانی اور انٹیلی جنس کی بنیاد پر اس کشتی کی نشاندہی کی گئی تھی جو خطے میں غیر قانونی سرگرمیوں کو فروغ دینے میں مصروف تھی۔ آپریشن کے دوران امریکی فورسز نے کامیابی سے اس کشتی کو بورڈ کیا اور ضروری کارروائی کے بعد اسے سمندر میں ہی غرق کر دیا تاکہ اسے دوبارہ کبھی استعمال نہ کیا جا سکے۔ اس کامیاب کارروائی کو بین الاقوامی سطح پر منشیات کی سمگلنگ کے خلاف جنگ میں ایک اہم قدم قرار دیا جا رہا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ سمندر کے راستے ہونے والی غیر قانونی سرگرمیوں پر قابو پانے کے لیے اس طرح کے سخت اقدامات انتہائی ضروری ہیں کیونکہ سمگلرز اکثر دور دراز کے سمندری علاقوں کو اپنے مذموم مقاصد کے لیے محفوظ پناہ گاہوں کے طور پر استعمال کرتے ہیں۔ امریکی فوج اور دیگر سکیورٹی ادارے اس خطے میں پہلے ہی ہائی الرٹ پر ہیں تاکہ کسی بھی ممکنہ غیر قانونی سرگومی کو بروقت روکا جا سکے۔ اس کارروائی کے بعد سے سمگلنگ نیٹ ورکس میں شدید تشویش پائی جاتی ہے کیونکہ اس سے ان کے سپلائی چین کو زبردست دھچکا لگا ہے۔