World
ٹرمپ کی ایران کو دھمکی، تہران کی طرف سے جنگی جرم قرار دینے کا اعلان
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے دھمکی دی ہے کہ امریکہ جب چاہے ایران کو نشانہ بنا سکتا ہے۔ دوسری جانب تہران نے شادی کی تقریب پر ہونے والے حملوں کو جنگی جرم قرار دیا ہے۔
واشنگٹن: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک بار پھر ایران کو سخت نتائج کی دھمکی دیتے ہوئے کہا ہے کہ امریکہ جب اور جہاں چاہے ایران پر دوبارہ حملے کرنے کی پوری صلاحیت رکھتا ہے۔ امریکی صدر کا یہ بیان ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب خطے میں کشیدگی انتہائی نچلی سطح پر پہنچ چکی ہے اور دونوں ممالک کے درمیان الفاظ کی جنگ میں شدت آ گئی ہے۔ امریکی قیادت کی جانب سے اس قسم کے بیانات کے بعد بین الاقوامی سطح پر تشویش کی لہر دوڑ گئی ہے اور خطے کے دیگر ممالک بھی صورتحال پر گہری نظر رکھے ہوئے ہیں۔
دوسری جانب تہران نے امریکی اور اتحادی فورسز کے حالیہ فضائی حملوں کو شدید الفاظ میں مسترد کرتے ہوئے انہیں کھلم کھلا جنگی جرم قرار دیا ہے۔ ایرانی حکام کے مطابق ان حالیہ حملوں میں اب تک مرنے والوں کی تعداد اٹھارہ تک پہنچ چکی ہے جن میں معصوم شہری بھی شامل ہیں۔ تہران کا کہنا ہے کہ ایک شادی کی تقریب کو نشانہ بنانا اور اس میں بے گناہ شہریوں کا خون بہانا بین الاقوامی قوانین اور انسانی حقوق کی صریح خلاف ورزی ہے، جس کا بھرپور سفارتی اور قانونی جواب دیا جائے گا۔
بین الاقوامی مبصرین کا ماننا ہے کہ اس نوعیت کے حملے اور فریقین کے تلخ بیانات مشرق وسطیٰ کو ایک بڑی جنگ کے دہانے پر لے جا سکتے ہیں۔ اقوام متحدہ اور دیگر عالمی اداروں نے تمام متعلقہ فریقین سے تحمل کا مظاہرہ کرنے کی اپیل کی ہے تاکہ خطے کے امن کو مزید خطرات سے بچایا جا سکے۔ تاہم زمینی حقائق کو دیکھتے ہوئے فی الحال کشیدگی میں کمی کے کوئی واضح آثار دکھائی نہیں دے رہے اور دونوں اطراف سے تیاریاں جاری ہیں۔