LIVE
Loading Breaking News...

امریکی کانگریس کا سپریم کورٹ کے سائز پر آئینی ترمیم مسترد کرنے کا فیصلہ

News Image
امریکی کانگریس میں سپریم کورٹ کے اراکین کی تعداد محدود کرنے کے لیے پیش کی جانے والی آئینی ترمیم کو مسترد کر دیا گیا ہے۔ ریپبلکن رہنما مائیک جانسن نے اس آئینی ترمیم کی مخالفت کرنے پر ڈیموکریٹس پر کڑی تنقید کی ہے۔
واشنگٹن ڈی سی میں امریکی کانگریس کے اندر ہونے والی حالیہ قانون سازی کی کشمکش کے دوران ایک اہم پیش رفت سامنے آئی ہے جہاں قانون سازوں نے سپریم کورٹ کے اراکین کی تعداد یا اس کے سائز کو محدود کرنے سے متعلق آئینی ترمیم کو کثرت رائے سے مسترد کر دیا ہے۔ اس اقدام کا مقصد عدالت عظمیٰ کے ڈھانچے میں اہم تبدیلیاں لانا تھا تاکہ اس کے اختیارات اور ساخت کو قانون سازوں کی مرضی کے مطابق ڈھالا جا سکے۔ تاہم، کانگریس نے اس ترمیم کی راہ میں رکاوٹ حائل کرتے ہوئے اسے نامنظور کر دیا۔ اس فیصلے کے بعد سیاسی ایوانوں میں بحث کا نیا سلسلہ شروع ہو گیا ہے اور دونوں بڑی سیاسی جماعتیں اس معاملے پر آمنے سامنے آ گئی ہیں۔ اس فیصلے کے فورا بعد ریپبلکن پارٹی کے سرکردہ رہنما اور اعلیٰ عہدیدار مائیک جانسن نے ڈیموکریٹس کے خلاف سخت ردعمل کا اظہار کیا ہے۔ انہوں نے ڈیموکریٹس کی جانب سے اس ترمیم کی مخالفت کرنے پر انہیں کڑے تنقید کا نشانہ بنایا اور کہا کہ اس اقدام سے عدالت کی ساکھ اور غیر جانبداری کو نقصان پہنچانے کی کوشش کی جا رہی تھی۔ مائیک جانسن کا مؤقف تھا کہ عدالت عظمیٰ کے دفاع اور اس کے تقدس کو بحال رکھنے کے لیے ضروری تھا کہ اس قسم کی سیاسی مداخلت سے گریز کیا جاتا، لیکن ڈیموکریٹس نے سیاسی مفادات کو ترجیح دی۔ دوسری جانب ڈیموکریٹک قانون سازوں نے اپنے دفاع میں مؤقف اختیار کیا ہے کہ عدالتی اصلاحات وقت کی اہم ضرورت ہیں تاکہ انصاف کے نظام میں توازن قائم رکھا جا سکے۔ ان کا کہنا تھا کہ سپریم کورٹ کے فیصلوں میں عوامی امنگوں کی عکاسی ہونی چاہیے اور اس کے دائرہ کار میں بہتری لانے کے لیے قانونی مباحثہ جاری رہنا چاہیے۔ تاہم، ریپبلکنز کی اکثریت اور سیاسی دباؤ کے باعث اس ترمیم کو مطلوبہ حمایت حاصل نہ ہو سکی اور بالاخر یہ کارروائی ناکام ہو گئی۔ ماہرینِ سیاسیات کا کہنا ہے کہ امریکہ میں عدلیہ کا ادارہ ہمیشہ سے انتہائی حساس اور سیاسی طور پر متنازعہ موضوع رہا ہے، جہاں دونوں جماعتیں اپنے اپنے سیاسی مقاصد کے لیے اس پر اثر انداز ہونے کی کوشش کرتی ہیں۔ حالیہ ووٹنگ نے ایک بار پھر یہ ثابت کر دیا ہے کہ کانگریس کے اندر عدالتی اصلاحات کے معاملے پر اتفاقِ رائے پیدا کرنا انتہائی مشکل مرحلہ ہے۔ آنے والے دنوں میں اس موضوع پر مزید گرما گرم بحث کی توقع کی جا رہی ہے کیونکہ دونوں جماعتیں آئندہ کے سیاسی لائحہ عمل پر غور کر رہی ہیں۔