LIVE
Loading Breaking News...

امریکی جج کا فیصلہ: پیدائشی شہریت محدود کرنے کی کوشش مسترد

News Image
امریکی عدالت نے سابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے پیدائشی شہریت کو محدود کرنے کی نئی کوشش کو ناکام بنا دیا ہے۔ اس سے قبل سپریم کورٹ بھی اس اقدام کو غیر قانونی قرار دے چکی ہے۔
امریکہ میں ایک وفاقی جج نے سابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے پیدائشی شہریت کے قوانین کو محدود یا تبدیل کرنے کی تازہ ترین کوشش کو باضابطہ طور پر روک دیا ہے۔ عدلیہ کا یہ فیصلہ ملک بھر میں شہریت کے قوانین اور آئینی حقوق کے حوالے سے جاری بحث میں ایک اہم موڑ کی حیثیت رکھتا ہے، جس پر قانونی ماہرین کی بھی گہری نظر تھی۔ یہ نیا عدالتی حکم نامہ اس تناظر میں سامنے آیا ہے جب کچھ عرصہ قبل ہی امریکی سپریم کورٹ نے چھ کے مقابلے میں تین کی اکثریت سے ایک تاریخی فیصلہ دیا تھا۔ اس فیصلے میں عدالتِ عظمیٰ نے واضح کیا تھا کہ ٹرمپ انتظامیہ کی جانب سے پیدائشی شہریت کو محدود کرنے کے تمام تر اقدامات قانونی دائرہ کار سے باہر اور غیر آئینی ہیں۔ آئینِ امریکہ کی چودھویں ترمیم کے تحت امریکہ کی سرزمین پر پیدا ہونے والے ہر بچے کو خود بخود امریکی شہریت حاصل ہو جاتی ہے، چاہے اس کے والدین غیر قانونی طور پر ہی مقیم کیوں نہ ہوں۔ سابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور ان کے حامی اس قانونی شق کو تبدیل کرنے یا اس کے دائرہ کار کو محدود کرنے کے لیے طویل عرصے سے کوشاں رہے ہیں تاکہ ایسے بچوں کو شہریت دینے سے روکا جا سکے جن کے والدین غیر ملکی یا غیر دستاویزی تارکینِ وطن ہیں۔ تاہم، ملک کی اعلیٰ ترین عدالت کے بعد اب نچلی عدالتوں نے بھی اس مؤقف کو مسترد کر دیا ہے کہ صدارتی احکامات کے ذریعے آئینی شقوں کی تشریح کو من مانے طریقے سے تبدیل کیا جا سکتا ہے۔ قانونی ماہرین کے مطابق تازہ ترین عدالتی فیصلے سے تارکینِ وطن کے حقوق کے حامی گروپس کو ایک بڑی قانونی فتح حاصل ہوئی ہے۔ ناقدین کا کہنا تھا کہ پیدائشی شہریت کو محدود کرنے کی کوششیں نہ صرف آئین سے متصادم ہیں بلکہ اس سے معاشرے میں غیر یقینی کی صورتحال اور تقسیم بھی پیدا ہوتی ہے۔ عدالت کے اس اقدام سے فی الحال ٹرمپ کے ان متنازعہ ارادوں پر پانی پھر گیا ہے جو وہ تارکینِ وطن کی پالیسیوں کے حوالے سے رکھتے تھے۔ آنے والے دنوں میں اس فیصلے کے دور رس نتائج سامنے آنے کی توقع ہے کیونکہ یہ معاملہ امریکی سیاست اور آئینی حقوق کی جنگ میں ایک مرکزی حیثیت اختیار کر چکا ہے۔