LIVE
Loading Breaking News...

ایکٹ فار نیوٹریشن کانفرنس اسلام آباد کا دوسرا دن

News Image
اسلام آباد میں دو روزہ بین الاقوامی 'ایکٹ فار نیوٹریشن' کانفرنس کا دوسرا روز جاری ہے جس کا مقصد پاکستان میں غذائی قلت اور اسٹنٹنگ کے بحران سے نمٹنا ہے۔ کانفرنس کے پہلے روز ماہرین نے خبردار کیا تھا کہ پانچ سال سے کم عمر کے چالیس فیصد سے زائد بچے اسٹنٹنگ کا شکار ہیں۔
اسلام آباد کے سرینا ہوٹل میں دو روزہ بین الاقوامی کانفرنس 'ایکٹ فار نیوٹریشن: دی ایمرجنسی وی کین نو لانگر اگنور' کا دوسرا روز باقاعدہ طور پر شروع ہو چکا ہے۔ اس اہم کانفرنس کا بنیادی مقصد پاکستان میں طویل عرصے سے چلے آ رہے غذائی قلت اور بچوں میں اسٹنٹنگ کے سنگین بحران کا احاطہ کرنا اور اس کے سدباب کے لیے عملی اقدامات تجویز کرنا ہے۔ کانفرنس کے دوسرے روز کا آغاز آغا خان یونیورسٹی کی ایک مختصر فلم 'ليکی گٹس' کی نمائش سے کیا گیا، جس نے شرکاء کی توجہ اس مسئلے کے طبی پہلوؤں پر مبذول کرائی۔ کانفرنس کے دوران آبادی میں اضافے کے خاندانی فلاح و بہبود پر پڑنے والے اثرات کے حوالے سے ایک خصوصی سیشن کا بھی آغاز کیا گیا ہے، جس میں پالیسی سازوں اور ماہرین نے تفصیلی تبادلہ خیال کیا۔ یاد رہے کہ اس دو روزہ تقریب میں ملک بھر اور دنیا بھر سے پالیسی ساز، بین الاقوامی ترقیاتی رہنما، صحت کے شعبے کے پیشہ ور افراد اور غذائی امور کے ماہرین بڑی تعداد میں شرکت کر رہے ہیں تاکہ اس بڑھتے ہوئے بحران کے خلاف فوری اور مربوط حکمت عملی تیار کی جا سکے۔ کانفرنس کے پہلے روز ماہرین نے انتہائی تشویشناک اعداد و شمار پیش کرتے ہوئے انکشاف کیا تھا کہ پاکستان میں پانچ سال سے کم عمر کے چار میں سے تین سے زائد یعنی چالیس فیصد سے زیادہ بچے اسٹنٹنگ (قد اور ذہنی نشوونما رک جانے) کا شکار ہیں۔ ماہرین کے مطابق اس سنگین صورتحال کی وجہ سے ملک کو سالانہ تقریباً 17 ارب ڈالر کا معاشی نقصان اٹھانا پڑ رہا ہے۔ ماہرین نے اس بات پر بھی روشنی ڈالی کہ غذائی قلت کی اصل وجوہات میں ناقص خوراک، صحت کی ناکافی سہولیات، کمزور پانی اور صفائی کے نظام کے ساتھ ساتھ غربت اور دیگر سماجی عوامل شامل ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ اس بحران پر قابو پانے کے لیے کسی ایک شعبے کی بجائے ایک کثیر الجہتی (multisectoral) ردعمل ناگزیر قرار دیا گیا ہے۔