Business
پاکستان نے یورو بانڈ کے ذریعے 3 ارب ڈالر اکٹھے کر لیے
وزارتِ خزانہ کے مطابق پاکستان نے ڈوئل ٹرانچ یورو بانڈ کے اجراء کے ذریعے عالمی سرمائے کی مارکیٹ سے 3 ارب ڈالر کی ریکارڈ رقم کامیابی سے حاصل کر لی ہے۔ اس تاریخی ٹرانزیکشن کو عالمی سرمایہ کاروں کی جانب سے تقریباً 6 ارب ڈالر کے آرڈرز موصول ہوئے جو ملکی معیشت پر بڑھتے ہوئے اعتماد کا مظہر ہے۔
اسلام آباد: وزارتِ خزانہ نے جمعرات کو اعلان کیا ہے کہ پاکستان نے بین الاقوامی کیپیটাল مارکیٹ میں اپنی تاریخ کی سب سے بڑی ٹرانزیکشن کے ذریعے 3 ارب ڈالر کی ریکارڈ رقم کامیابی سے حاصل کر لئی ہے۔ یہ فنڈنگ ایک ڈوئل ٹرانچ یورو بانڈ کے اجراء کے ذریعے کی گئی ہے جسے عالمی منڈیوں کے مختلف اداروں اور سرمایہ کاروں کی جانب سے لگ بھگ 6 ارب ڈالر کے بھاری آرڈرز موصول ہوئے۔ وزارتِ خزانہ کے جاری کردہ بیان کے مطابق یہ کامیاب ٹرانزیکشن عالمی مالیاتی مارکیٹوں تک پاکستان کی تجدید شدہ اور متنوع رسائی میں ایک سنگِ میل کی حیثیت رکھتی ہے، جو عالمی سرمایہ کاروں کے اعتماد کی بھرپور غمازی کرتی ہے۔ اس بات سے ظاہر ہوتا ہے کہ پاکستان اب بڑے پیمانے پر عالمی فنڈنگ مارکیٹوں سے رجوع کرنے کی بھرپور صلاحیت رکھتا ہے۔ اس حالیہ مالیاتی لین دین میں دو مختلف حصوں پر مشتمل بانڈز جاری کیے گئے ہیں۔ جن میں سے 1.75 ارب ڈالر مالیت کا ساڑھے پانچ سالہ بانڈ 7.5 فیصد کوپن ریٹ پر جبکہ 1.25 ارب ڈالر مالیت کا 10 سالہ بانڈ 7.9 فیصد شرح سود پر جاری کیا گیا ہے۔ وزارت کا کہنا ہے کہ دونوں میچورٹیز پر مسابقتی قیمتوں کا تعین اور خاص طور پر 10 سالہ مدت کے لیے مضبوط طلب اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ پاکستان طویل مدتی فنڈنگ حاصل کرنے کی پوری صلاحیت رکھتا ہے کیونکہ عالمی سرمایہ کار ملک کے بہتر ہوتے ہوئے معاشی اور کریڈٹ فنڈامینٹلز پر نظرثانی کر رہے ہیں۔ وزارتِ خزانہ نے مزید وضاحت کرتے ہوئے بتایا کہ اس ٹرانزیکشن کا مقصد صرف اضافی قرض حاصل کرنا نہیں ہے بلکہ پاکستان ایک وسیع تر حکمت عملی کے تحت فعال خودمختار ذمہ داری کا انتظام کر رہا ہے۔ اس کا بنیادی مقصد مالیاتی ذرائع کو متنوع بنانا، مدت کو بڑھانا، ری فنانسنگ کے خطرات کو کم کرنا اور مہنگے قلیل مدتی قرضوں کو کم لاگت اور طویل مدتی فنانسنگ سے تبدیل کرنا ہے۔ حکومت پہلے ہی گھریلو قرضوں کی قبل از وقت ادائیگی کی پالیسی پر عمل پیرا ہے اور اب اس نظم و ضبط کو بیرونی فنانسنگ تک بڑھایا جا رہا ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ گزشتہ تین سالوں کے دوران پاکستان کی بہتر ہوتی ہوئی معاشی رفتار کو مسلسل کریڈٹ ریٹنگ میں بہتری کی صورت میں تسلیم کیا گیا ہے، اور اب عالمی سرمایہ کاروں نے اربوں ڈالر کی سرمایہ کاری کر کے اس تشخیص پر مہر تصدیق ثبت کر دی ہے۔