Sports
اظہر علی کا پاکستان کرکٹ کے زوال اور بورڈ کی پالیسیوں پر سخت تبصرہ
قومی کرکٹ ٹیم کے سابق کپتان اظہر علی کا کہنا ہے کہ پاکستان کرکٹ کو وژن کی کمی اور فیصلوں میں عدم استحکام کا سامنا ہے۔ انہوں نے بورڈ اور کھلاڑیوں میں نوکری کے تحفظ کے خوف کو ٹیم کی خراب کارکردگی کی بنیادی وجہ قرار دیا ہے۔
پاکستان کرکٹ ٹیم کے سابق کپتان اظہر علی نے کہا ہے کہ ملک میں کرکٹ کے زوال کی اصل وجہ وژن کی کمی، مستقل مزاجی کا فقدان اور فیصلہ سازوں میں نوکری کے تحفظ کے بارے میں پایا جانے والا خوف ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ کرکٹ بورڈ میں کام کرنے والے افراد میں وژن کا فقدان ہے جو بار بار کی جانے والی تبدیلیوں سے عیاں ہوتا ہے۔ اظہر علی کے یہ تبصرے پاکستان کرکٹ بورڈ کی جانب سے دورہ انگلینڈ کے دوران ریڈ بال ہیڈ کوچ کو ہٹانے، کھلاڑیوں کو واپس بھیجنے اور سلیکشن کمیٹی میں تبدیلیوں کے بعد سامنے آئے ہیں۔
اظہر علی نے مزید کہا کہ مسلسل تبدیلیوں کی وجہ سے کھلاڑیوں میں بھی شدید عدم تحفظ پیدا ہو رہا ہے اور وہ ذہنی دباؤ کا شکار ہیں۔ انہوں نے نشاندہی کی کہ جب بورڈ کے عہدیدار اپنی نوکری بچانے کی کوشش کرتے ہیں تو قابلیت پس منظر میں چلی جاتی ہے۔ ان کے مطابق ماضی میں سیاسی عدم استحکام اور کوچز و سلیکٹرز کی مسلسل تبدیلیوں نے ٹیم کو شدید نقصان پہنچایا ہے اور اب ضرورت اس امر کی ہے کہ معاملات کو بہتر بنانے کے لیے درست سمت کا تعین کیا جائے۔
سابق ٹیسٹ بلے باز کا کہنا تھا کہ پاکستان کرکٹ کو بار بار سمت بدلنے کے بجائے تمام اسٹیک ہولڈرز بالخصوص سابق اور موجودہ کرکٹرز کو ایک میز پر بیٹھ کر زمینی حقائق کا اعتراف کرنا چاہیے۔ انہوں نے تجویز پیش کی کہ پاکستان کرکٹ کی بہتری کے لیے ایک طویل المدتی پانچ سالہ روڈ میپ بنایا جانا چاہیے جس پر صبر اور مستقل مزاجی کے ساتھ عمل درآمد کیا جائے تاکہ ٹیم کو دوبارہ مستحکم بنایا جا سکے، کیونکہ حالیہ بحران نے قومی ٹیم کو عالمی سطح پر غیر متعلقہ بنا دیا ہے۔