Business
امریکی اسٹاک مارکیٹ اور مائیکروسافٹ کے شیئرز میں تیزی
امریکی اسٹاک مارکیٹوں میں مثبت رجحان دیکھا جا رہا ہے جبکہ آسٹریلوی مارکیٹ کے بھی اس کی پیروی کرنے کا امکان ہے۔ مائیکروسافٹ کی فروخت اور کلاؤڈ گروتھ کی بہتر پیشگوئی کے بعد کمپنی کے حصص میں پندرہ فیصد سے زائد کا نمایاں اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔
امریکی اسٹاک مارکیٹوں میں حالیہ کاروباری سیشن کے دوران مثبت رجحان دیکھنے میں آیا ہے، جہاں سرمایہ کاروں کی دلچسپی میں اضافہ ہوا ہے۔ اس تیزی کے بعد آسٹریلوی مارکیٹ یعنی اے ایس ایکس دو سو (ASX 200) کے بھی اسی مثبت رجحان کی پیروی کرنے کی توقع ظاہر کی جا رہی ہے۔ مارکیٹ کے مبصرین کے مطابق مجموعی کاروباری ماحول میں بہتری کی لہر دوڑ گئی ہے جس سے سرمایہ کاروں کے اعتماد میں بھی اضافہ ہوا ہے۔ اس دوران ٹیکنالوجی کے شعبے کی نمایاں کمپنیوں نے شاندار کارکردگی کا مظاہرہ کیا ہے۔ خصوصاً مائیکروسافٹ کے حصص میں پندرہ اعشاریہ پانچ فیصد تک کا زبردست اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے جس نے پوری مارکیٹ کا رخ متعین کرنے میں اہم کردار ادا کیا۔ کمپنی کی جانب سے آئندہ کی فروخت اور کلاؤڈ کمپیوٹنگ کے شعبے میں متوقع ترقی کے حوالے سے مثبت پیشگوئیاں کی گئی تھیں جنہیں سرمایہ کاروں کی جانب سے بے حد سراہا گیا ہے۔ مائیکروسافٹ کی یہ شاندار کارکردگی دیگر ٹیکنالوجی کمپنیوں کے لیے بھی محرک ثابت ہو رہی ہے اور مارکیٹ کے مجموعی اشاریے اوپر کی طرف گامزن ہیں۔ دوسری جانب مالیاتی منڈیوں میں بانڈز کے شعبے میں بھی اہم تبدیلیاں رونما ہو رہی ہیں۔ تیس سالہ امریکی ٹریژری ییلڈ بڑھ کر پانچ اعشاریہ دو چار چار چار فیصد تک پہنچ گئی ہے جو کہ سن دو ہزار سات کے وسط کے بعد سے اس کی بلند ترین سطح ہے۔ شرح سود اور بانڈ ییلڈ میں اس اضافے کو معاشی ماہرین بڑی گہری نظر سے دیکھ رہے ہیں کیونکہ اس کا براہ راست اثر عالمی مالیاتی منڈیوں اور قرض لینے کی لاگت پر پڑتا ہے۔ اس تناظر میں سرمایہ کار انتہائی محتاط حکمت عملی کے ساتھ آگے بڑھ رہے ہیں تاکہ کسی بھی ممکنہ معاشی اتار چڑھاؤ سے بچا جا سکے۔ مجموعی طور پر ٹیکنالوجی کے شعبے میں زبردست تیزی اور ٹریژری ییلڈ میں اضافے کے درمیان توازن تلاش کرنے کی کوششیں جاری ہیں۔ اقتصادی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ آنے والے دنوں میں عالمی مالیاتی منڈیوں کا رخ بڑی حد تک کارپوریٹ اداروں کی آمدنی کے اعداد و شمار اور مرکزی بینکوں کے آئندہ کے فیصلوں پر منحصر ہوگا۔