World
ایران کی جانب سے راکٹ سسٹمز میں تبدیلی اور آب ہرمز کی صورتحال
بین الاقوامی میڈیا رپورٹس میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ ایران نے آب ہرمز میں بارودی سرنگیں فائر کرنے کے لیے اپنے راکٹ سسٹمز میں ترمیم کی ہے۔ اس کے ساتھ ہی خطے میں امریکہ اور ایران کے درمیان کشیدگی میں مزید اضافہ ہو گیا ہے۔
بین الاقوامی میڈیا میں گردش کرنے والی رپورٹس کے مطابق ایران نے آب ہرمز کے اسٹریٹجک پانیوں میں بارودی سرنگیں فائر کرنے کے قابل بنانے کے لیے اپنے روایتی راکٹ سسٹمز میں اہم تبدیلیاں کی ہیں۔ اس پیش رفت نے خطے میں پہلے سے موجود شدید کشیدگی کو مزید ہوا دے دی ہے، کیونکہ آب ہرمز تیل کی ترسیل کے لیے دنیا کا ایک انتہائی اہم بحری راستہ ہے۔ عسکری ماہرین کا کہنا ہے کہ اس طرح کی ترمیم سے سمندری حدود میں سکیورٹی کے خطرات بڑھ سکتے ہیں اور بین الاقوامی بحری تجارت شدید متاثر ہو سکتی ہے۔ دوسری جانب خطے میں امریکہ اور ایران کے درمیان جاری محاذ آرائی میں بھی تیزی آئی ہے۔ تازہ ترین اطلاعات کے مطابق امریکی حملوں اور ایرانی جوابی کارروائیوں کا سلسلہ جاری ہے، جس کے نتیجے میں فریقین کے درمیان عسکری کشیدگی خطرناک حد تک بڑھ چکی ہے۔ میڈیا رپورٹس میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ حالیہ جھڑپوں اور حملوں کے دوران عام شہریوں کو بھی نقصان پہنچا ہے، جس پر بین الاقوامی برادری نے گہری تشویش کا اظہار کیا ہے۔ ایران نے شادی کی تقریب پر ہونے والے حملوں کو جنگی جرم قرار دیا ہے جبکہ دوسری جانب امریکی حکام نے عام شہریوں کو جان بوجھ کر نشانہ بنانے کی تردید کی ہے۔ اس تمام صورتحال کے تناظر میں خطے میں امن کی بحالی کے لیے سفارتی کوششیں بھی جاری ہیں، تاہم زمینی حقائق اس بات کی غمازی کرتے ہیں کہ دونوں ممالک کے درمیان کشیدگی فوری طور پر کم ہوتی نظر نہیں آ رہی۔ عالمی رہنماؤں نے تمام فریقین سے تحمل کا مظاہرہ کرنے کی اپیل کی ہے تاکہ خطے کو کسی بڑی تباہی سے بچایا جا سکے، کیونکہ آب ہرمز میں کسی بھی قسم کی فوجی کشیدگی کے عالمی معیشت اور توانائی کی فراہمی پر تباہ کن اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔