LIVE
Loading Breaking News...

یورپی یونین کا روس کی تخریب کاری کیخلاف اہم قدم

News Image
جرمنی کی جانب سے لیپزگ ایئرپورٹ پر ہونے والے ڈرون واقعے کا ذمہ دار روس کو ٹھہرائے جانے کے بعد یورپی یونین نے سختی سے نمٹنے کا تہیہ کر لیا ہے۔ یورپی حکام نے واضح کیا ہے کہ یورپ کو خوفزدہ کرنے کی روسی کوششیں کبھی کامیاب نہیں ہوں گی۔
برسلز: یورپی یونین نے حالیہ دنوں میں پیش آنے والے روسی تخریب کاری کے واقعات کے خلاف ایک مؤثر اور مربوط جوابی حکمت عملی تیار کرنا شروع کر دی ہے۔ یہ پیشرفت اس وقت سامنے آئی ہے جب جرمنی نے باضابطہ طور پر روس کو لیپزگ ایئرپورٹ پر پیش آنے والے مشکوک ڈرون واقعے کا ذمہ دار قرار دیا ہے، جس کے بعد برلن حکومت نے ماسکو کے خلاف تعزیراتی اقدامات کا بھی آغاز کر دیا ہے۔ جرمنی کے ان الزامات نے پورے یورپی خطے میں سکیورٹی خدات کو مزید بڑھا دیا ہے اور یورپی رہنما اس صورتحال پر انتہائی سنجیدگی سے غور کر رہے ہیں۔یورپی یونین کی خارجہ امور کی نامزد سربراہ اور اعلیٰ سفارت کار کایا کالس نے اپنے ایک سخت بیان میں اس عزم کا اعادہ کیا ہے کہ یورپ کو ڈرانے اور دھمکانے کی روسی کوششیں اپنے مقاصد میں کبھی کامیاب نہیں ہوں گی۔ انہوں نے کہا کہ یورپی یونین اپنے اتحادیوں کے ساتھ مکمل یکجہتی کا اظہار کرتی ہے اور کسی بھی بیرونی جارحیت یا تخریب کاری کا منہ توڑ جواب دیا جائے گا۔ مبصرین کا خیال ہے کہ جرمنی کی جانب سے عائد کی جانے والی حالیہ تعزیرات براہ راست روسی صدر ولادیمیر پوتن کے عزائم کو تو نہیں روک سکتیں، تاہم اس سے ماسکو پر بین الاقوامی دباؤ میں نمایاں اضافہ ضرور ہو رہا ہے۔دوسری جانب، یوکرین کے صدر وولودیمیر زیلنسکی نے انکشاف کیا ہے کہ ان کا ملک جرمنی کے ساتھ ایک اہم 'ڈرون ڈیل' کا متن حتمی شکل دینے کے آخری مراحل میں ہے۔ یوکرین اور جرمنی کے درمیان اس عسکری تعاون کو روس کے بڑھتے ہوئے خطرات کے تناظر میں انتہائی اہمیت کا حامل قرار دیا جا رہا ہے۔ ماہرین کے مطابق یورپی ممالک اور یوکرین کے درمیان اس طرح کے دفاعی معاہدے خطے میں سکیورٹی کی نئی صف بندی کو ظاہر کرتے ہیں، جس سے آنے والے دنوں میں روس اور یورپی یونین کے درمیان کشیدگی میں مزید اضافے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔