World
یونیسف رپورٹ: دنیا بھر میں بچوں کا آن لائن جنسی استحصال
اقوام متحدہ کے ادارے یونیسف کی ایک نئی رپورٹ کے مطابق اکیس ممالک میں انٹرنیٹ استعمال کرنے والا ہر پانچواں بچہ ڈیجیٹل ٹیکنالوجی کے ذریعے جنسی استحصال کا نشانہ بنا ہے۔ ادارے نے اس بڑھتے ہوئے خطرے سے نمٹنے کے لیے ٹیکنالوجی کمپنیوں اور حکومتوں سے سخت ضابطہ کار اور فوری اقدامات کا مطالبہ کیا ہے۔
اقوام متحدہ کے ذیلی ادارے یونیسف (UNICEF) نے اپنی ایک انتہائی تشویشناک رپورٹ میں انکشاف کیا ہے کہ صرف ایک سال کے دوران دنیا بھر میں تقریبا دو کروڑ بچے آن لائن جنسی استحصال کا شکار بنے ہیں۔ یہ اعداد و شمار ڈیجیٹل دنیا میں بچوں کے تحفظ کے حوالے سے سنگین سوالات کھڑے کرتے ہیں اور اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ جدید ٹیکنالوجی بچوں کے لیے خطرہ بنتی جا رہی ہے۔ رپورٹ کے مطابق اکیس مختلف ممالک میں کیے گئے مطالعے سے یہ بات سامنے آئی ہے کہ انٹرنیٹ استعمال کرنے والا ہر پانچواں بچہ ٹیکنالوجی کے ذریعے ہونے والے جنسی استحصال یا ہراسانی کا سامنا کر چکا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ سوشل میڈیا پلیٹ فارمز، میسجنگ ایپس اور آن لائن گیمنگ نیٹ ورکس کا غلط استعمال بچوں کو مجرموں کی پہنچ میں لے آ رہا ہے، جہاں وہ انتہائی آسانی سے ان کا شکار بن جاتے ہیں۔ اقوام متحدہ اور یونیسف کے اعلیٰ حکام نے اس گھناؤنے رجحان پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے عالمی سطح پر ہنگامی بنیادوں پر اقدامات اٹھانے کی اپیل کی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ ٹیکنالوجی کمپنیوں کو اپنے پلیٹ فارمز پر سکیورٹی کے نظام کو مزید موثر بنانا ہوگا تاکہ بچوں کو اس قسم کے مجرمانہ رویوں سے محفوظ رکھا جا سکے۔ اس کے علاوہ حکومتوں پر بھی زور دیا گیا ہے کہ وہ ڈیجیٹل سیفٹی سے متعلق قوانین کو سخت کریں اور آن لائن جرائم میں ملوث عناصر کے خلاف فوری قانونی کارروائی عمل میں لائیں۔ رپورٹ میں والدین کو بھی مشورہ دیا گیا ہے کہ وہ اپنے بچوں کی آن لائن سرگرمیوں پر کڑی نظر رکھیں اور انہیں انٹرنیٹ کے محفوظ استعمال کے بارے میں آگاہی فراہم کریں۔ ماہرین کا ماننا ہے کہ والدین، حکومتوں اور ٹیک کمپنیوں کے مشترکہ لائحہ عمل کے بغیر بچوں کو اس ڈیجیٹل خطرے سے بچانا ممکن نہیں ہے۔