LIVE
Loading Breaking News...

چینی صدر شی جن پنگ کا مصر کا دورہ اور دوطرفہ معاہدے

News Image
چینی صدر شی جن پنگ نے دس سال بعد مصر کا سرکاری دورہ کیا ہے جہاں انہوں نے مصری صدر عبدالفتاح السیسی سے ملاقات کی۔ دونوں رہنماؤں نے دو طرفہ تعلقات کو فروغ دینے اور مصنوعی ذہانت اور الیکٹرک گاڑیوں سمیت مختلف شعبوں میں سرمایہ کاری بڑھانے کے معاہدوں پر دستخط کیے۔
چین کے صدر شی جن پنگ ایک دہائی کے طویل عرصے کے بعد مصر کے سرکاری دورے پر پہنچ گئے ہیں، جہاں دارالحکومت قاہرہ میں ان کا پرتپاک استقبال کیا گیا۔ اس دورے کا مقصد دونوں ممالک کے درمیان اسٹریٹجک شراکت داری کو مزید مستحکم کرنا اور اقتصادی تعاون کو نئی بلندیوں تک پہنچانا ہے۔ مصری صدر عبدالفتاح السیسی اور چینی صدر کے درمیان ہونے والی ملاقات میں خطے کی مجموعی صورتحال اور عالمی امور پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔ ملاقات کے دوران دونوں رہنماؤں نے اس بات پر زور دیا کہ مشرق وسطیٰ کے امور میں بیرونی مداخلت کی مخالفت کی جانی چاہیے اور خطے کے ممالک کو اپنے فیصلے خود کرنے کا حق حاصل ہونا چاہئے۔ دورے کے دوران چین اور مصر کے درمیان متعدد اہم معاہدوں اور مفاہمت کی یادداشتوں پر دستخط کیے گئے ہیں۔ ان معاہدوں کا بنیادی ہدف اقتصادی تعاون کو وسعت دینا ہے، جس میں خاص طور پر مصنوعی ذہانت (AI) اور الیکٹرک گاڑیوں کی صنعتوں میں چینی سرمایہ کاری کو بڑھانا شامل ہے۔ دونوں حکومتیں اس بات پر متفق ہیں کہ جدید ٹیکنالوجی اور سبز توانائی کے شعبے میں باہمی تعاون سے نہ صرف دونوں ممالک کی معیشتوں کو فائدہ پہنچے گا بلکہ تکنیکی ترقی کے نئے دروازے بھی کھلیں گے۔ تجزیہ کار اس دورے کو عالمی سیاست اور معیشت کے تناظر میں انتہائی اہمیت کا حامل قرار دے رہے ہیں، خاص طور پر ایسے وقت میں جب عالمی سطح پر نئے معاشی اور سیاسی اتحاد تشکیل پا رہے ہیں۔ چین کی جانب سے مصر میں سرمایہ کاری میں اضافہ دونوں ممالک کے دیرینہ تعلقات کی عکاسی کرتا ہے اور آنے والے دنوں میں اس شراکت داری کے خطے پر گہرے اثرات مرتب ہونے کی توقع کی جا رہی ہے۔