Business
عالمی منڈی میں تیل کی قیمتیں بڑھ گئیں، امریکہ ایران کشیدگی اثر انداز
امریکہ اور ایران کے درمیان تازہ ترین فوجی کشیدگی کے بعد عالمی منڈی میں خام تیل کے نرخوں میں تیزی کا رجحان دیکھا گیا ہے۔ اس کشیدگی سے تیل کی سمندری ترسیل متاثر ہونے کا خدشہ پیدا ہو گیا ہے جس کی وجہ سے سرمایہ کاروں میں تشویش پائی جاتی ہے۔
عالمی منڈی میں خام تیل کے فیوچر سودوں میں ایک بار پھر نمایاں اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے جس کی بنیادی وجہ امریکہ اور ایران کے مابین بڑھتی ہوئی فوجی کشیدگی اور تازہ حملے ہیں۔ بین الاقوامی میڈیا رپورٹس کے مطابق خام تیل کے نرخوں میں ایک فیصد تک تیزی دیکھی گئی ہے کیونکہ فریقین کے درمیان تنازعے میں شدت آنے سے تیل کی رسد شدید خطرے سے دوچار ہو گئی ہے۔ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ مشرق وسطیٰ کی اس تازہ ترین صورتحال نے توانائی کی عالمی منڈیوں کو ہلا کر رکھ دیا ہے اور مارکیٹ کے شرکاء کسی بھی بڑے بحران سے نمٹنے کے لیے تیار ہیں۔ اس سے قبل بھی خطے میں کشیدگی کے باعث تیل کی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ دیکھا گیا تھا، لیکن تازہ ترین کارروائیوں کے بعد سپلائی چین کے متاثر ہونے کے خدشات بڑھ گئے ہیں۔ ماہرین اقتصادیات کا کہنا ہے کہ اگر صورتحال مزید کشیدہ ہوتی ہے تو تیل کی قیمتوں میں مزید اضافے کا قوی امکان ہے جس سے دنیا بھر میں مہنگائی کی لہر آ سکتی ہے۔ توانائی کے شعبے سے وابستہ تحقیقی اداروں کے مطابق، ٹینکرز اور سمندری گزرگاہوں پر ممکنہ خطرات نے شپنگ کمپنیوں اور خریداروں کو محتاط کر دیا ہے، جس سے مارکیٹ میں غیر یقینی کی کیفیت برقرار ہے۔