World
بی بی سی انکشاف: تارکین وطن کی اسمگلنگ کے لیے گروپس کا گٹھ جوڑ
بی بی سی کی ایک حالیہ تحقیقات سے انکشاف ہوا ہے کہ تارکین وطن کو اسمگل کرنے والے گروپس چھوٹی بوتوں کی قلت کا سامنا کر رہے ہیں۔ اس کمی کی وجہ سے اب مخالف گینگز بھی آپس میں مل کر بڑے جہازوں پر زیادہ افراد کو منتقل کرنے پر مجبور ہیں۔
برطانوی نشریاتی ادارے بی بی سی کی ایک تازہ ترین اور تہلکہ خیز تحقیقات میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ انسانی اسمگلنگ میں ملوث گروپس کو اس وقت چھوٹی بوتوں کی شدید قلت کا سامنا ہے۔ اس قلت نے اسمگلنگ کے کاروبار کو ایک نیا رخ دے دیا ہے جہاں ماضی کے حریف گینگز بھی اب اپنے اختلافات کو پس پشت ڈال کر آپس میں تعاون کرنے پر مجبور ہو گئے ہیں۔ تحقیقاتی رپورٹ کے مطابق، بوٹوں کی عدم دستیابی کی وجہ سے یہ مجرمانہ نیٹ ورکس اب بڑے سائز کی بوٹوں اور کشتیوں کا استعمال بڑھا رہے ہیں تاکہ ایک ہی چکر میں زیادہ سے زیادہ تارکین وطن کو سمندر پار منتقل کیا جا سکے۔
ذرائع کے مطابق یہ صورتحال نہ صرف اسمگلنگ کے طریقوں میں تبدیلی کو ظاہر کرتی ہے بلکہ اس سے سمندری سفر پر جانے والے تارکین وطن کے لیے خطرات بھی کئی گنا بڑھ گئے ہیں۔ بڑے جہازوں پر مقررہ گنجائش سے زیادہ افراد کو سوار کرنے کے عمل سے حادثات کا خدشہ مزید سنگین ہو جاتا ہے۔ قانون نافذ کرنے والے اداروں اور بارڈر سیکیورٹی ایجنسیوں کی جانب سے مسلسل سختی اور کارروائیوں کی وجہ سے اسمگلروں کے رسد کے ذرائع محدود ہوتے جا رہے ہیں، جس کی وجہ سے وہ اب بوٹوں کی مشترکہ خریداری اور استعمال پر انحصار کر رہے ہیں۔
بی بی سی کی اس تحقیقات نے بین الاقوامی سطح پر انسانی اسمگلنگ کے نیٹ ورکس کے خلاف جاری کوششوں اور ان کی نئی حکمت عملیوں پر ایک بار پھر روشنی ڈالی ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ جب تک ان مجرمانہ نیٹ ورکس کی مالی معاونت اور سپلائی لائنز کو مانیٹر کر کے مکمل طور پر ختم نہیں کیا جاتا، اس طرح کے خطرناک طریقے جاری رہنے کا خدشہ ہے۔ یورپی اور برطانوی حکام اس رپورٹ کے بعد اپنی سرحدی حکمت عملیوں کا از سر نو جائزہ لے رہے ہیں تاکہ سمندر میں بڑھتے ہوئے ان خطرات سے نمٹا جا سکے اور غیر قانونی نقل و حمل کے اس گھناؤنے کاروبار پر مؤثر قابو پایا جا سکے۔