LIVE
Loading Breaking News...

اقوام متحدہ کا ایل نینو کے خطرات پر انتباہ

News Image
عالمی ادارے موسمیاتی تبدیلی کے اس قدرتی رجحان کے باعث دنیا بھر میں شدید معاشی اور زرعی نقصانات کا خدشہ ظاہر کر رہے ہیں۔ متعلقہ ممالک کو اس ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کے لیے پیشگی تیاری کرنے کی ہدایت کی گئی ہے۔
اقوام متحدہ کے عالمی ادارہ موسمیات نے دنیا بھر کے ممالک کو خبردار کیا ہے کہ اس سال آنے والا ایل نینو کا قدرتی موسماتی رجحان انتہائی شدت اختیار کر سکتا ہے جسے 'سپر سائز' کا نام دیا گیا ہے۔ یہ موسمی تبدیلی عالمی معیشتوں کے لیے شدید نوعیت کے خلل اور چیلنجز کا باعث بن سکتی ہے۔ ماہرین کے مطابق اس رجحان کے نتیجے میں دنیا کے مختلف حصوں میں خشک سالی، شدید گرمی کی لہریں اور خطرناک سیلاب جیسی کیفیات پیدا ہونے کا قوی امکان ہے۔ عالمی سطح پر زرعی پیداوار متاثر ہونے سے غذائی قلت کے خطرات بھی بڑھ سکتے ہیں۔ ڈبلیو ایم او کے حکام کا کہنا ہے کہ اس قدرتی عمل کے اثرات دنیا بھر میں محسوس کیے جائیں گے اور اس سے ترقی پذیر ممالک کی معیشتوں کو سب سے زیادہ نقصان پہنچ سکتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ عالمی اداروں نے تمام متعلقہ حکومتوں پر زور دیا ہے کہ وہ فوری طور پر ہنگامی بنیادوں پر تیاریوں کا آغاز کریں تاکہ ممکنہ نقصانات کو کم سے کم کیا جا سکے۔ ترقی یافتہ اور ترقی پذیر دونوں ممالک کو اپنے ڈیزاسٹر مینجمنٹ کے نظام کو مزید موثر بنانا ہو گا تاکہ اس موسمی بحران سے نمٹا جا سکے۔