LIVE
Loading Breaking News...

آفس میں چندہ دینے کا درست طریقہ اور مناسب رقم کتنی ہونی چاہیے؟

News Image
دفتر میں ساتھی ملازمین کے لیے چندہ اکٹھا کرنا ایک عام روایت ہے لیکن اس سے کئی بار بے آرامی اور الجھن پیدا ہوتی ہے۔ اس رپورٹ میں جائزہ لیا گیا ہے کہ ملازمین کو اس معاملے میں کس حکمت عملی کا انتخاب کرنا چاہیے۔
دفتروں میں ساتھی ملازمین کی سالگرہ، شادی، رٹائرمنٹ یا کسی دوسرے خاص موقع پر چندہ اکٹھا کرنا (جسے انگریزی میں وہپ راؤنڈ کہا جاتا ہے) پیشہ ورانہ زندگی کا ایک اہم اور دیرینہ حصہ ہے۔ یہ روایات بظاہر دفتر میں اچھے تعلقات کو فروغ دینے اور باہمی تعاون کو بڑھانے کے لیے ہوتی ہیں، لیکن کئی بار یہ ملازمین کے لیے شدید ذہنی الجھن اور بے آرامی کا باعث بھی بن جاتی ہیں۔ ملازمین اکثر اس مخمصے کا شکار رہتے ہیں کہ اس فنڈ میں کتنی رقم دی جائے جو نہ تو بہت کم محسوس ہو اور نہ ہی ان کے اپنے ذاتی بجٹ پر کوئی اضافی مالی بوجھ ڈالے۔ ماہرینِ معاشیات اور دفتری آداب کے ماہرین کا کہنا ہے کہ اس قسم کے چندے میں حصہ لینا ہمیشہ مکمل طور پر رضاکارانہ ہونا چاہیے۔ کسی بھی ملازم پر زیادہ رقم دینے کے لیے دباؤ ڈالنا دفتری ماحول کو خراب کر سکتا ہے۔ عام طور پر یہ تجویز کیا جاتا ہے کہ چندے کی رقم اتनी ہونی چاہیے جو آپ کی جیب پر بھاری نہ پڑے اور آپ اسے خوش اسلوبی سے ادا کر سکیں۔ اکثر دفاتر میں اس حوالے سے کوئی مقررہ حد نہیں ہوتی، لیکن چھوٹے تحائف کے لیے علامتی اور مناسب رقم دینا ہی بہترین عمل سمجھا جاتا ہے۔ اس روایت کا ایک اور مشکل پہلو یہ ہوتا ہے کہ آیا ان لوگوں کو بھی چندہ دینا چاہیے جن کے ساتھ آپ کے ورک ریلیشنز زیادہ اچھے نہیں ہیں یا جو کسی دوسرے ڈیپارٹمنٹ میں کام کرتے ہیں۔ دفتری کلچر کے اصولوں کے مطابق، اگر آپ اجتماعی ماحول کا حصہ ہیں تو کبھی کبھار ایسے مواقع پر چھوٹا حصہ ڈال دینا پیشہ ورانہ حسن کا حصہ ہے، تاہم اس بات کا خیال رکھنا بھی ضروری ہے کہ آپ ہر وقت کے فنڈز اور چندوں کی وجہ سے مالی دباؤ کا شکار نہ ہوں۔ منتظمین کو بھی چاہیے کہ وہ چندہ اکٹھا کرتے وقت اس بات کو یقینی بنائیں کہ کسی کا نام یا رقم 공개 نہ کی جائے تاکہ کم رقم دینے والے کو شرمندگی کا سامنا نہ کرنا پڑے۔