LIVE
Loading Breaking News...

وزارتِ دفاع پر ایٹمی تجربات کے سابق فوجیوں کا ریکارڈ چھپانے کا الزام

News Image
کولڈ وار کے دوران ایٹمی تجربات کی نگرانی کرنے والے سابق فوجیوں نے دعویٰ کیا ہے کہ ان تجربات کی وجہ سے انہیں زندگی بھر کے لیے صحت کے سنگین مسائل کا سامنا کرنا پڑا۔ ایک سابق وزیر نے بھی تصدیق کی ہے کہ وزارتِ دفاع نے ان فوجیوں سے متعلقہ اہم معلومات اور ریکارڈ کو دانستہ طور پر پوشیدہ رکھا۔
کولڈ وار کے دورانیے میں ایٹمی تجربات کی نگرانی کرنے والے سابق فوجیوں نے ایک بار پھر سنگین نوعیت کے انکشافات کیے ہیں۔ ان سابق فوجیوں کا طویل عرصے سے یہ مؤقف رہا ہے کہ ان تجربات کے دوران تابکاری اور دیگر خطرناک اثرات کی وجہ سے انہیں زندگی بھر کے لیے صحت کے مختلف مسائل کا سامنا کرنا پڑا ہے۔ اس معاملے میں اس وقت نیا موڑ آیا جب ایک سابق وزیر نے یہ دعویٰ کیا کہ وزارتِ دفاع نے ان فوجیوں سے جڑے ریکارڈ اور معلومات کو جان بوجھ کر چھپایا اور منظرِ عام پر نہیں آنے دیا۔ ذرائع کے مطابق یہ تنازع اس وقت شدت اختیار کر گیا جب متاثرہ فوجیوں اور ان کے خاندانوں نے اپنے طبی مسائل اور ان کے اسباب جاننے کے لیے حکومتی سطح پر دستویزات طلب کیں۔ سابق وزیر نے اپنے بیان میں اعتراف کیا کہ متعلقہ حکام نے اس حساس معاملے پر شفافیت کا مظاہرہ کرنے کے بجائے معلومات کو دبانے کی کوشش کی۔ اس اقدام سے ان ہزاروں فوجیوں میں شدید غم و غصہ پایا جاتا ہے جو اس وقت ملکی دفاع کی خاطر ان خطرناک مقامات پر تعینات کیے گئے تھے اور اب وہ مختلف دائمی بیماریوں سے نبرد آزما ہیں۔ مدافعتی اور فلاحی تنظیموں کا کہنا ہے کہ حکومت کو فوری طور پر تمام چھپائے گئے ریکارڈز کو منظرِ عام پر لانا چاہیے تاکہ متاثرہ فوجیوں کو ان کا جائز حق اور بروقت طبی امداد مل سکے۔ اس انکشاف کے بعد اب پارلیمنٹ اور دیگر فورمز پر بھی اس بات کا مطالبہ کیا جا رہا ہے کہ اس پورے معاملے کی غیر جانبدارانہ تحقیقات کی جائیں تاکہ یہ واضح ہو سکے کہ کس سطح پر معلومات کو چھپانے کا فیصلہ کیا گیا تھا اور اس سے متاثرہ افراد کو کیا نقصان پہنچا۔