LIVE
Loading Breaking News...

نیپال سیلاب: لاپتہ افراد کی علامتی تدفین اور سوگوار خاندانوں کا احتجاج

News Image
نیپال میں حالیہ تباہ کن سیلاب کے دوران لاپتہ ہونے والے افراد کے لواحقین نے ان کی یاد میں علامتی جنازے اور تدفین کا اہتمام کیا۔ اس المناک موقع پر متاثرہ خاندانوں نے اپنے پیاروں کے بچھڑنے پر گہرے دکھ اور غم کا اظہار کیا۔
ہمسایہ ملک نیپال میں حالیہ اور تباہ کن سیلاب کے نتیجے میں لاپتہ ہونے والے افراد کے لیے علامتی جنازوں اور تدفین کا سلسلہ شروع ہو گیا ہے۔ اس المناک عمل کے دوران سوگوار خاندانوں اور مقامی شہریوں کی بڑی تعداد نے شرکت کی تاکہ ان پیاروں کو خراج عقیدت پیش کیا جا سکے جن کی لاشیں اب تک طوفانی ریلوں اور ملبے سے نہیں مل سکیں۔ یاد رہے کہ اس ہمالیائی ملک میں حال ہی میں آنے والے شدید سیلاب اور لینڈ سلائیڈنگ نے بڑے پیمانے پر تباہی مچائی تھی، جس کے نتیجے میں سینکڑوں اموات ہوئیں اور ہزاروں افراد بے گھر ہو گئے۔ کئی ہفتے گزر جانے کے باوجود متعدد افراد کا اب تک کوئی سراغ نہیں مل سکا، جس کی وجہ سے اہل خانہ کو شدید ذہنی اذیت اور نامعلوم صورتحال کا سامنا ہے۔ روایتی رسومات اور مذہبی عقائد کے مطابق، لواحقین کے لیے اپنے پیاروں کی آخری رسومات ادا کرنا انتہائی اہمیت رکھتا ہے تاکہ وہ اپنے غم کو ہلکا کر سکیں۔ علامتی تدفین کے ان اجتماعات میں لوگوں نے روتے ہوئے اپنے پیاروں کو یاد کیا اور حکومت سے مطالبہ کیا کہ متاثرہ علاقوں میں بحالی کے کاموں کو تیز کیا جائے اور لاپتہ افراد کے خاندانوں کی مالی معاونت کی جائے۔ حکام کا کہنا ہے کہ ریسکیو آپریشنز اپنی تمام تر کوششوں کے باوجود تمام لاپتہ افراد تک رسائی حاصل کرنے میں مشکلات کا شکار رہے ہیں کیونکہ قدرتی آفات کے اثرات اتنے وسیع تھے کہ سڑکیں اور پل تباہ ہو چکے ہیں۔ یہ علامتی تدفین نہ صرف غم زدہ خاندانوں کے لیے صبر کا ذریعہ بن رہی ہے بلکہ یہ اس اجتماعی المیے کی یاد بھی دلاتی ہے جس نے پورے نیپال کو سوگ میں ڈبو دیا۔