AI
سیم ألٹمن کا جی ٹوینٹی میں اے آئی کو بجلی جتنا اہم قرار دینے کا اعلان
اوپن اے آئی کے سربراہ سیم ألٹمن نے جی ٹوینٹی کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ مصنوعی ذہانت مستقبل میں انسانی زندگی کے لیے بجلی جتنی لازمی بن جائے گی۔ انہوں نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ جدید ٹیکنالوجی دنیا بھر کے تمام طبقات کے لیے قابل رسائی ہونی چاہئے۔
اوپن اے آئی کے چیف ایگزیکٹو آفیسر سیم ألٹمن نے حال ہی میں جی ٹوینٹی (G20) کے ایک اہم اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ مصنوعی ذہانت (AI) آنے والے وقت میں انسانی معاشرے کے لیے اتنی ہی بنیادی اور ضروری ہو جائے گی جتنی آج بجلی ہے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ دنیا بھر کے رہنماؤں کو اس ٹیکنالوجی کو عام آدمی تک پہنچانے کے لیے موثر اقدامات کرنے چاہئیں۔ سیم ألٹمن کا یہ بیان ٹیکنالوجی کی دنیا میں ایک اہم سنگ میل کی حیثیت رکھتا ہے کیونکہ اس سے دنیا بھر کے پالیسی سازوں کو اے آئی کے مستقبل کے بارے میں واضح اشارہ ملتا ہے۔
خطاب کے دوران سیم ألٹمن نے اس امر پر بھی روشنی ڈالی کہ موجودہ دور میں پرورش پانے والا ہر بچہ مستقبل میں مصنوعی ذہانت کی صلاحیتوں کا اعتراف کرے گا اور اس کے بغیر زندگی کا تصور بھی محال ہوگا۔ ان کا کہنا تھا کہ جدید ترین مصنوعی ذہانت کے ماڈلز نہ صرف معیشت کو بہتر بنانے میں مدد دیں گے بلکہ یہ تعلیم، صحت اور دیگر شعبوں میں بھی انقلاب برپا کر دیں گے۔ ان کے مطابق، یہ ضروری ہے کہ اے آئی کے فوائد محض چند ممالک یا اداروں تک محدود نہ رہیں بلکہ عالمی سطح پر تمام انسانوں کو اس سے مستفید ہونے کا موقع ملے۔
ماہرین کے مطابق سیم ألٹمن کے اس بیان سے بین الاقوامی سطح پر مصنوعی ذہانت کے ضابطہ کار اور انفراسٹرکچر پر کام کرنے کے لیے دباؤ میں مزید اضافہ ہوگا۔ جی ٹوینٹی ممالک کے رہنماؤں نے اس ٹیکنالوجی کے معاشی اثرات اور اس کے ممکنہ خطرات پر بھی غور کیا ہے۔ اس موقع پر ڈیجیٹل تقسیم کو ختم کرنے اور ترقی پذیر ممالک میں اے آئی کی صلاحیت کو بڑھانے کے لیے مشترکہ حکمت عملی اپنانے کی ضرورت پر بھی زور دیا گیا، تاکہ آنے والی نسلیں ایک مستحکم اور ترقی یافتہ دنیا میں سانس لے سکیں۔