World
امریکی حملے کی تحقیقات کا مطالبہ: ایران ہلالِ احمر کا آئی سی سی سے رجوع
ایران کے ہلالِ احمر نے کوہستاک میں شادی کی تقریب پر ہونے والے امریکی فضائی حملے کے خلاف بین الاقوامی فوجداری عدالت سے تحقیقات کا مطالبہ کر دیا ہے۔ اس حملے کے نتیجے میں چار افراد ہلاک اور سڑسٹھ زخمی ہوئے تھے جس پر شدید عالمی سطح پر غم و غصہ پایا جاتا ہے۔
تہران: ایران کے ہلالِ احمر نے کوہستاک کے علاقے میں شادی کی ایک پرمسرت تقریب پر ہونے والے ہولناک امریکی حملے کے معاملے کو بین الاقوامی فوجداری عدالت (آئی سی سی) میں لے جانے کا پرزور مطالبہ کیا ہے۔ اس حالیہ اور انتہائی افسوسناک فضائی حملے کے نتیجے میں چار معصوم شہری لقمہ اجل بن گئے تھے جبکہ تقریب میں شریک سڑسٹھ افراد شدید زخمی ہوئے تھے جن میں خواتین اور بچے بھی شامل ہیں۔ اس واقعے کے بعد سے مقامی سطح کے ساتھ ساتھ عالمی حلقوں میں بھی شدید غم و غصے کی لہر دوڑ گئی ہے اور انسانی حقوق کی تنظیموں نے اسے جنگی جرم قرار دیا ہے۔
ذرائع کے مطابق کوہستاک میں اس تقریب کے دوران اچانک ہونے والے حملے نے پورے علاقے میں کہرام مچا دیا جہاں خوشی کا ماحول چند ہی لمحوں میں ماتم میں تبدیل ہو گیا۔ ایرانی حکام اور ہلالِ احمر کا مؤقف ہے کہ نہتے شہریوں اور پُرامن تقریبات کو اس طرح نشانہ بنانا بین الاقوامی انسانی قوانین اور جنیوا کنونشن کی صریح خلاف ورزی ہے۔ تنظیم نے عالمی برادری اور انصاف کے بین الاقوامی اداروں سے اپیل کی ہے کہ وہ اس واقعے کا فوری طور پر نوٹس لیں اور ذمہ داروں کے خلاف سخت ترین قانونی کارروائی عمل میں لائیں۔
اس سنگین واقعے پر دنیا بھر کے انسانی حقوق کے محافظ اداروں نے بھی شدید تشویش کا اظہار کیا ہے اور امریکی عسکری حکام سے اس حملے کی شفاف تحقیقات کا مطالبہ کیا ہے۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ اس طرح کے حملے عام شہریوں کے تحفظ کے دعوؤں کی قلعی کھول دیتے ہیں اور خطے میں پہلے سے موجود تناؤ اور کشیدگی میں مزید خطرناک حد تک اضافہ کا باعث بنتے ہیں۔ ایرانی ہلالِ احمر نے عزم ظاہر کیا ہے کہ وہ متاثرہ خاندانوں کو انصاف دلانے کے لیے ہر ممکن قانونی چارہ جوئی کرے گا اور اس المناک انسانی المیے کو عالمی فورمز پر بھرپور طریقے سے اٹھائے گا تاکہ مستقبل میں ایسے اندوہناک واقعات کی روک تھام کی جا سکے۔