LIVE
Loading Breaking News...

پنجاب میں انسداد دہشت گردی کے خفیہ مقدمات اور قانون پر بحث

News Image
پنجاب میں انسداد دہشت گردی کے مقدمات میں ایک نامعلوم سرکاری افسر کو گمنام ججوں، پراسیکیوٹرز اور گواہوں کی تقرری کا اختیار دے دیا گیا ہے۔ اس قانون سازی پر انسانی حقوق کے حلقوں اور قانونی ماہرین کی طرف سے شدید تحفظات کا اظہار کیا جا رہا ہے۔
صوبہ پنجاب میں انسداد دہشت گردی کے قوانین کے تحت ایک نہایت ہی متنازعہ اور اہم فیصلہ سامنے آیا ہے جس کے تحت دہشت گردی کے مقدمات میں خفیہ اور گمنام ٹرائلز کی اجازت دے دی گئی ہے۔ اس نئے قانون کے نفاذ کے بعد اب ایک اکیلا نامعلوم سرکاری افسر یہ اختیار رکھتا ہے کہ وہ دہشت گردی کے سنگین مقدمات کی سماعت کے لیے گمنام ججوں، پراسیکیوٹرز اور گواہوں کے تقرر کا حکم صادر کرے۔ اس فیصلے نے قانونی اور سیاسی حلقوں میں ہلچل مچا دی ہے اور اس پر شدید نوعیت کے تحفظات کا اظہار کیا جا رہا ہے۔ ذرائع کے مطابق اس نئے طریقہ کار میں مقدمات کی سماعت کے لیے کوئی وقت کی قید یا حد مقرر نہیں کی گئی ہے، جس کا مطلب یہ ہے کہ یہ خفیہ کارروائیاں غیر معینہ مدت تک جاری رہ سکتی ہیں۔ قانون سازوں اور سول سوسائٹی کے نمائندوں کا کہنا ہے کہ اس طرح کے اقدامات سے شفاف ٹرائل کے بنیادی اصولوں کو شدید نقصان پہنچتا ہے۔ کسی بھی جمہوری معاشرے میں عدالتی کارروائی کا شفاف ہونا اور ملزم کو اپنے دفاع کا منصفانہ موقع ملنا بنیادی انسانی حقوق میں شامل ہے، جنہیں مبینہ طور پر اس قانون کے ذریعے سلب کیا جا رہا ہے۔ دوسری جانب سرکاری حکام کا موقف ہے کہ دہشت گردی کے خاتمے اور گواہوں اور ججوں کی جان کی حفاظت کے لیے سخت اقدامات اٹھانا ناگزیر ہوچکا تھا۔ ان کا ماننا ہے کہ شدت پسند عناصر کی جانب سے دھمکیوں کے پیش نظر عدالتی عملے اور استغاثہ کو تحفظ فراہم کرنے کے لیے اس قسم کے سخت قوانین کا سہارا لینا پڑا۔ تاہم ماہرین قانون کا اصرار ہے کہ سکیورٹی کے نام پر بنیادی انسانی حقوق اور شفاف عدالتی نظام کو پسِ پشت ڈالنا طویل مدت میں معاشرے کے لیے نقصان دہ ثابت ہو سکتا ہے اور اس سے انصاف کے حصول میں مزید پیچیدگیاں پیدا ہوں گی۔