World
امریکہ کا دباؤ اور تہران کے لیے چین کی حمایت کی حدود
امریکہ کی جانب سے تہران پر بڑھتے ہوئے دباؤ کے تناظر میں تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ بیجنگ کی حمایت کو خطے میں اپنے دیگر اہم تعلقات کے ساتھ توازن میں رکھا گیا ہے۔ چین اور ایران کے تعلقات میں وسعت کے باوجود اس سفارتی اتحاد کی اپنی مخصوص حدیں ہیں۔
امریکہ کی جانب سے ایران پر بڑھتے ہوئے سیاسی اور اقتصادی دباؤ کے تناظر میں بین الاقوامی امور کے ماہرین اور تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ تہران کے لیے بیجنگ کی حمایت کی ایک واضح اور طبعی حد موجود ہے۔ اگرچہ چین اور ایران کے درمیان حالیہ برسوں میں سفارتی اور معاشی تعلقات میں اضافہ دیکھا گیا ہے، تاہم بیجنگ اس خطے میں اپنے دیگر اہم شراکت داروں کے ساتھ تعلقات کو بھی یکساں اہمیت دیتا ہے۔
تجزیہ کاروں کے مطابق چین کی خارجہ پالیسی کا بنیادی محور توازن قائم رکھنا ہے۔ بیجنگ عالمی تجارت اور توانائی کی سلامتی کے پیش نظر خلیجی خطے کے دیگر اثر و رسوخ رکھنے والے ممالک کے ساتھ بھی اپنے مفادات کا تحفظ کرنا چاہتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ جب تہران پر امریکی دباؤ میں شدت آتی ہے، تو چین کی طرف سے حمایت کے بیانات کے باوجود عملی اقدامات میں ایک محتاط رویہ دکھائی دیتا ہے۔
بیجنگ کے پالیسی سازوں کا مؤقف رہا ہے کہ خطے میں استحکام اور امن خطے کے تمام ممالک کی معاشی ترقی کے لیے ناگزیر ہے۔ تہران کے ساتھ دوطرفہ تعاون کے باوجود چین بین الاقوامی پابندیوں اور سفارتی ضابطوں کے دائرے میں رہتے ہوئے ہی اپنے قدم بڑھاتا ہے تاکہ اس کے عالمی تجارتی مفادات متاثر نہ ہوں۔
مستقبل کے حوالے سے ماہرین کا کہنا ہے کہ امریکہ اور ایران کے درمیان کشیدگی میں اضافے کی صورت میں چین کا یہ محتاط رویہ مزید نمایاں ہو سکتا ہے۔ بیجنگ تہران کے ساتھ تعلقات کو مکمل طور پر ترک تو نہیں کرے گا، لیکن وہ امریکہ کے ساتھ محاذ آرائی سے بچنے کے لیے اپنی حمایت کو ایک مقررہ دائرے تک ہی محدود رکھے گا۔