World
یورپی یونین میں اسرائیلی بستیوں کی تجارت پر پابندی کے معاملے پر اختلاف
آئرلینڈ کی وزیر خارجہ ہెలین میک انٹی نے زور دیا ہے کہ یورپی یونین کو بین الاقوامی قانون کی پاسداری کے لیے مشترکہ طور پر اقدامات کرنے چاہئیں۔ تاہم، بلاک کے اندر غیر قانونی اسرائیلی بستیوں کے ساتھ تجارت کے معاملے پر تاحال اختلافات پائے جاتے ہیں۔
یورپی یونین کے اندر غیر قانونی اسرائیلی بستیوں پر تجارتی پابندیوں کے نفاذ کے معاملے پر رکن ممالک کے مابین گہرے اختلافات تاحال برقرار ہیں۔ اس صورتحال میں آئرلینڈ کی وزیر خارجہ ہెలین میک انٹی نے دوٹوک مؤقف اپناتے ہوئے کہا ہے کہ بلاک کو بین الاقوامی قانون کی پاسداری اور اس کے نفاذ کے لیے اجتماعی طور پر آگے بڑھنا چاہیے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ موجودہ عالمی چیلنجز سے نمٹنے اور انسانی حقوق کے تحفظ کے لیے یکساں پالیسی اپنانا ناگزیر ہے۔ بین الاقوامی قانون کے تحت فلسطینی علاقوں میں اسرائیلی بستیاں غیر قانونی قرار دی جاتی ہیں، جن پر تجارت کے حوالے سے یورپی ممالک میں طویل عرصے سے بحث جاری ہے۔ اگرچہ بعض یورپی ممالک اس معاملے پر سخت مؤقف کے حامی ہیں اور تجارتی پابندیوں کا مطالبہ کر رہے ہیں، تاہم دیگر ممالک کا مؤقف اس سے مختلف ہے جس کی وجہ سے یورپی یونین اب تک کوئی فیصلہ کن اور اجتماعی لائحہ عمل اختیار کرنے میں ناکام رہی ہے۔ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ یورپی یونین کے اندرونی اختلافات کی وجہ سے اس کی خارجہ پالیسی اور اثر و رسوخ کو بھی نقصان پہنچ رہا ہے۔ ہెలین میک انٹی کا یہ بیان ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب بین الاقوامی سطح پر قابض علاقوں میں ہونے والی تجارتی سرگرمیوں کے خلاف آوازیں بلند ہو رہی ہیں۔ آئرلینڈ کا شمار روایتی طور پر مشرق وسطیٰ کے تنازع میں فلسطینی حقوق کے سرکردہ حامی ممالک میں ہوتا ہے، اور وہ یورپی یونین پر زور دیتا رہا ہے کہ وہ اپنے فیصلوں میں بین الاقوامی انسانی حقوق کو مقدم رکھے۔ آنے والے دنوں میں یہ دیکھنا باقی ہے کہ آیا یورپی یونین کے دیگر ممالک آئرلینڈ کے اس مؤقف کی تائید کرتے ہیں یا نہیں، اور کیا یہ بلاک اس حساس نوعیت کے معاملے پر کوئی مشترکہ اور مؤثر حکمت عملی بنانے میں کامیاب ہو پاتا ہے۔