Politics
کراچی میں جماعت اسلامی کی ہڑتال اور تجارتی مراکز کی بندش
حکومت کی جانب سے پیٹرولیم لیوی اور ٹیکسوں کے نفاذ کے خلاف جماعت اسلامی کی ملک گیر ہڑتال کے دوران کراچی میں سینکڑوں تجارتی مراکز اور مارکیٹیں بند رہیں۔ اس دوران حکومت اور جماعت اسلامی کے درمیان مذاکرات میں ریلیف کے اقدامات پر غور کے لیے کمیٹیاں تشکیل دینے پر اتفاق بھی کیا گیا ہے۔
پیٹرولیم لیوی، اضافی ٹیکسوں اور شدید مہنگائی کے خلاف جماعت اسلامی کی کال پر ہونے والی ہڑتال کے باعث کراچی سمیت ملک بھر میں معمولات زندگی شدید متاثر ہوئے ہیں۔ کراچی کے مختلف علاقوں میں سینکڑوں تجارتی مارکیٹیں، دکانیں اور کاروباری مراکز مکمل طور پر بند رہے، جس سے تاجر برادری نے حکومت کی معاشی پالیسیوں کے خلاف بھرپور احتجاج ریکارڈ کروایا۔ شہریوں کو روزمرہ کے امور میں مشکلات کا سامنا کرنا پڑا جبکہ سڑکوں پر ٹریفک کی روانی بھی عام دنوں کے مقابلے میں کم رہی۔ دوسری جانب، ملک کے دیگر حصوں میں بھی احتجاجی مظاہرے دیکھنے میں آئے اور بعض مقامات پر پولیس اور کارکنان کے درمیان جھڑپوں کی بھی اطلاعات موصول ہوئی ہیں۔ بڑھتی ہوئی مہنگائی اور ٹیکسوں کے بوجھ نے عوام کی کمر توڑ دی ہے جس کے نتیجے میں یہ ملک گیر شٹر ڈاؤن ہڑتال کی گئی ہے۔ اس صورتحال کے تناظر میں حکومتی اراکین اور جماعت اسلامی کی قیادت کے درمیان مذاکرات کا سلسلہ بھی شروع ہو چکا ہے۔ تازہ ترین اطلاعات کے مطابق، حکومت اور جماعت اسلامی کے درمیان اس بات پر اتفاق ہو گیا ہے کہ عوام کو ریلیف فراہم کرنے کے لیے مشترکہ کمیٹیاں تشکیل دی جائیں گی جو متبادل تجاویز اور ممکنہ اقدامات کا جائزہ لیں گی۔ جماعت اسلامی کے امیر حافظ نعیم الرحمن کا کہنا ہے کہ احتجاج اور مذاکرات کا سلسلہ ساتھ ساتھ جاری رہے گا جب تک عوام کو مہنگائی اور ظالمانہ ٹیکسوں سے حقیقی ریلیف فراہم نہیں کیا جاتا۔ تاجروں اور عوام کی جانب سے حکومت سے پرزور مطالبہ کیا جا رہا ہے کہ وہ فوری طور پر پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں کمی اور بجلی کے بلوں میں ریلیف کا اعلان کرے تاکہ معیشت کو سہارا مل سکے اور غریب عوام کا استحصال روکا جا سکے۔