LIVE
Loading Breaking News...

ایل نینو کا زور اور دنیا بھر میں شدید گرمی کی پیشگوئی

News Image
اقوام متحدہ اور عالمی موسمیاتی ادارے نے خبردار کیا ہے کہ طاقتور ایل نینو ابھر رہا ہے جس کی وجہ سے آنے والے مہینوں میں شدید گرمی اور موسمیاتی تبدیلیوں کے خطرات بڑھ گئے ہیں۔ سائنسدانوں کے مطابق یہ رجحان دنیا بھر میں شدید موسمی حالات کا باعث بن سکتا ہے۔
عالمی سطح پر موسمیاتی امور کے ماہرین اور اقوام متحدہ کے اداروں نے ایک بار پھر خبردار کیا ہے کہ طاقتور 'ایل نینو' کا رجحان تیزی سے زور پکڑ رہا ہے، جس کے نتیجے میں آنے والے مہینوں میں دنیا بھر میں شدید گرمی کی لہر اور موسمیاتی انتہا پسندی دیکھنے کو مل سکتی ہے۔ اقوام متحدہ کے متعلقہ اداروں کے مطابق، یہ موسمیاتی عمل اپنی پوری طاقت کے ساتھ ابھر رہا ہے اور اس کے اثرات آنے والے سالوں تک محسوس کیے جا سکتے ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ ایل نینو کے اس طاقتور ہونے سے زمین کے درجہ حرارت میں نمایاں اضافہ ہو گا اور دنیا کے مختلف حصوں میں خشک سالی، سیلاب اور ہیٹ ویو جیسے خطرات بڑھ جائیں گے۔ عالمی موسمیاتی ادارے (WMO) نے اپنی رپورٹس میں واضح کیا ہے کہ اس رجحان کی وجہ سے نہ صرف ساحلی علاقوں بلکہ پہاڑی سلسلوں بالخصوص ہمالیہ کے خطے میں بھی گلیشیئرز کے پگھلنے کی رفتار تیز ہو سکتی ہے، جو خطے کے ماحولیات اور پانی کے ذخائر کے لیے ایک بڑا چیلنج ہے۔ قدیم مرجانوں پر کی گئی حالیہ سائنسی تحقیق سے یہ بھی انکشاف ہوا ہے کہ جدید دور کے ایل نینو واقعات ماضی کے مقابلے میں انتہائی شدید نوعیت اختیار کر چکے ہیں اور پچھلے ایک ہزار سال کی بلند ترین سطح پر پہنچ گئے ہیں۔ سائنسی جریدوں میں شائع ہونے والی رپورٹس کے مطابق، اس 'سپر ایل نینو' کی وجہ سے عالمی حد شدت میں مزید تیزی آئے گی، جس سے دنیا کے کئی ممالک کو خوراک کی قلت، زرعی پیداوار میں کمی اور پانی کے بحران کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ حکومتوں اور متعلقہ اداروں پر زور دیا جا رہا ہے کہ وہ اس ممکنہ خطرے سے نمٹنے کے لیے فوری طور پر ہنگامی بنیادوں پر اقدامات کریں تاکہ انسانی جانوں اور معیشت کو ہونے والے ممکنہ نقصانات کو کم سے کم کیا جا سکے۔