Business
فیڈرل ریزرو کی مانیٹری پالیسی، مہنگائی اور شرح سود پر تازہ ترین بیانات
فیڈرل ریزرو کی عہدیدار سوسن کولنز نے خبردار کیا ہے کہ اگر مہنگائی کی شرح میں امید کے مطابق کمی واقع نہ ہوئی تو شرح سود میں مزید اضافہ کیا جا سکتا ہے۔ اس کے برعکس، فیڈ کے دوسرے پالیسی ساز کرس ووٹر نے حالیہ اعداد و شمار کی روشنی میں آنے والی میٹنگ میں نرخوں کو برقرار رکھنے پر بھی آمادگی ظاہر کی ہے۔
امریکہ کے مرکزی بینک فیڈرل ریزرو کی سینئر عہدیدار سوسن کولنز نے واضح کیا ہے کہ اگر مہنگائی کے اعداد و شمار مایوس کن رہے اور قیمتوں میں کمی کا رجحان توقعات کے مطابق سست رہا تو مرکزی بینک کے لیے شرح سود میں مزید اضافہ کرنا ایک درست اقدام ہوگا۔ ان کا یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب امریکی معیشت اور مالیاتی منڈیوں میں اس بات پر گرما گرم بحث جاری ہے کہ فیڈرل ریزرو اپنی آئندہ مانیٹری پالیسی میٹنگ میں کیا مؤقف اختیار کرے گا۔ دوسری جانب، مرکزی بینک کے ایک اور اہم پالیسی ساز کرس ووٹر کا کہنا ہے کہ اگر آئندہ آنے والی افراط زر کی رپورٹس میں مہنگائی کم ہوتی دکھائی دیتی ہے تو مرکزی بینک ستمبر میں ہونے والی میٹنگ کے دوران شرح سود کو موجودہ سطح پر برقرار رکھنے کا فیصلہ بھی کر سکتا ہے۔ کرس ووٹر کا یہ بھی ماننا ہے کہ معیشت میں مہنگائی کے دباؤ کو کم ہونے کے لیے مناسب موقع دینا چاہیے اور فیڈرل ریزرو ایک ملاقات کا انتظار کرنے کی پوزیشن میں ہے۔ معاشی ماہرین کا کہنا ہے کہ مرکزی بینک کے اعلیٰ حکام کے یہ متضاد اور محتاط بیانات اس بات کی عکاسی کرتے ہیں کہ امریکی معیشت اس وقت ایک ایسے دوراہے پر کھڑی ہے جہاں افراط زر کے ہر نئے اعداد و شمار کی کڑی نگرانی کی جا رہی ہے۔ آنے والے دنوں میں جاری ہونے والے مہنگائی کے اعداد و شمار ہی اس بات کا حتمی فیصلہ کریں گے کہ فیڈرل ریزرو کی جانب سے سود کی شرح میں مزید سختی کی جائے گی یا پھر طویل عرصے تک نرخوں کو موجودہ بلند ترین سطح پر ہی روکے رکھا جائے گا تاکہ معاشی سرگرمیوں کو شدید نقصان پہنچائے بغیر قیمتوں کے استحکام کو یقینی بنایا جا سکے۔