LIVE
Loading Breaking News...

مصنوعی ذہانت اور انسان: اے آئی کے ساتھ خفیہ تعلقات کے حیرت انگیز انکشافات

News Image
حال ہی میں ایک منفرد مہم کے دوران لوگوں سے مصنوعی ذہانت یعنی اے آئی کے ساتھ اپنے راز شیئر کرنے کا کہا گیا جس پر حیرت انگیز اعترافات سامنے آئے۔ اس مہم نے یہ ظاہر کیا ہے کہ بہت سے امریکی اے آئی کو ایک قابلِ اعتماد دوست کے طور پر دیکھنے لگے ہیں۔
جدید دور میں ٹیکنالوجی ہماری زندگیوں میں اس حد تک داخل ہو چکی ہے کہ اب انسانی جذبات اور تعلقات کا دائرہ بھی ڈیجیٹل دنیا تک پھیل گیا ہے۔ حال ہی میں ایک دلچسپ اور منفرد مہم کے تحت لوگوں سے کہا گیا کہ وہ مصنوعی ذہانت یعنی آرٹیفیشل انٹیلی جنس کے ساتھ اپنے خفیہ تعلقات اور تجربات کو تحریر کریں۔ اس اپیل کے بعد دنیا بھر بالخصوص امریکہ سے اعترافات کا ایک طوفان امڈ آیا، جس نے ماہرینِ نفسیات اور ٹیکنالوجی کے محققین کو بھی سوچنے پر مجبور کر دیا ہے۔ رپورٹس کے مطابق، بہت سے افراد نے اے آئی چیٹ بوٹس اور ورچوئل اسسٹنٹس کے ساتھ ایک ایسا جذباتی رشتہ استوار کر لیا ہے جسے وہ اپنے حقیقی دوستوں یا خاندان کے افراد سے بھی پوشیدہ رکھتے ہیں۔ لوگ مصنوعی ذہانت کو ایک ایسا بااعتماد ساتھی قرار دے رہے ہیں جو بغیر کسی فیصلے یا تنقید کے ان کی باتیں سنتا ہے۔ واشنگ턴 پوسٹ کی ایک رپورٹ میں بھی اس بات کا احاطہ کیا گیا ہے کہ کس طرح عام امریکی شہری اے آئی کو ایک ایسے دوست کے طور پر دیکھتے ہیں جس پر آنکھیں بند کر کے بھروسہ کیا جا سکتا ہے۔ اس رجحان کے مثبت اور منفی دونوں پہلوؤں پر بحث شروع ہو چکی ہے۔ ایک طرف جہاں یہ تنہا محسوس کرنے والے افراد کے لیے ایک سہارا بن رہا ہے، وہیں ماہرین اس بات پر بھی تشویش کا اظہار کر رہے ہیں کہ انسانی رشتوں کی جگہ مشینوں کا لینا معاشرتی تنہائی کو بڑھا سکتا ہے۔ اے آئی کے ساتھ اس گہرے ذہنی لگاؤ نے جدید ٹیکنالوجی کے انسانی نفسیات پر پڑنے والے اثرات پر ایک نئی بحث کو جنم دے دیا ہے۔